خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس میں اسلام آباد امن مذاکرات کی حمایت میں قراداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی، دوسری جانب صوبائی اسمبلی کا اجلاس 22 اپریل کو سہ پہر 3 بجے عمران خان کرکٹ سٹیڈیم میں منعقد ہونے کا اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ہے، دریں اثنا ایوان میں گداگری کی انسداد کیلئے بل بھی پیش کیا گیا ۔
پشاور: اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومت کی پیش کردہ قرارداد میں امن، استحکام اور علاقائی تعاون پر زوردیا گیا، متن میں کہا گیا ہے کہ قرارداد میں بانی پی ٹی آئی کے خارجہ پالیسی وژن کو خراج تحسین پیش کیا گیا ۔
اسلام آباد میں امن مذاکرات ہی پائیدار امن کا واحد راستہ قراردیاگیا ہے، قرارداد میں خیبرپختومخوا اسمبلی قراردادکا امن اور سفارت کاری کے فروغ کا اعادہ بھی کیا گیا ہے ۔
قرارداد کے متن کے مطابق اسلام آباد امن مکالمہ علاقائی ہم آہنگی کا موقع، تنازعات غربت اور انسانی مسائل میں اضافے کا سبب ہیں ۔
قرارداد میں خیبرپختونخوا اسمبلی میں سیاسی مکالمے کو ناگزیر قرار دے دیا گیا، ایوان نے امن مذاکرات کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے، خيبر پختونخوا اسمبلی نے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلیا ۔
دوسری جانب ایوان میں بذریعہ مراسلہ خیبر پختونخوا اسمبلی نے اراکین اسمبلی کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ صوبائی اسمبلی کا آئندہ اجلاس 22 اپریل کو سہ پہر 03 بجے عمران خان کرکٹ سٹیڈیم میں منعقد ہوگا ۔
مراسلے کے مطابق اسمبلی اجلاس کو روایتی ایوان کے بجائے عمران خان سٹیڈیم پشاور میں منعقد کرنے کا فیصلہ اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے مطابق کیا گیا ہے، جبکہ اس تبدیلی سے تمام اراکین کو پیشگی طور پر مطلع کر دیا گیا ہے تاکہ وہ بروقت اپنی شرکت یقینی بنا سکیں ۔
مزید کہا گیا ہے کہ متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی گئی ہیں کہ عمران خان کرکٹ سٹیڈیم میں اجلاس کے انعقاد کے لیے تمام انتظامات فوری طور پر مکمل کیے جائیں، جن میں سیکیورٹی، میڈیا سہولیات اور دیگر انتظامی امور شامل ہیں، تاکہ پارلیمانی کارروائی کو منظم اور مؤثر انداز میں یقینی بنایا جا سکے ۔
دریں اثنا ایوان میں گداگری کے خاتمے کیلئے ویگرینسی ایکٹ 2026 اسمبلی میں پیش کیا گیا، مجوزہ بل کے مطابق قانون پورے صوبے میں نافذ ہوگا پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائیگی ۔
بل میں کہا گیا ہے کہ گداگری کے خاتمے کیلئے صوبائی اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کی جائے گی، کمیٹی کو گداگر کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کرنے کی سفارش کا اختیار ہوگا ۔
مجوزہ بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پہلی بار بھیک مانگنے پر وارننگ یا ایک ماہ قید جبکہ دوبارہ پر ایک سال قید کی سزا ہوگی ۔


