ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا حتمی متن طے پا گیا ہے اور دونوں فریقین نے اس پر الیکٹرانک دستخط کر دیے ہیں۔
سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ معاہدے کے متن پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ دستخط کر چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات معاہدے پر دستخط کے لیے نہیں تھی، جبکہ ملاقات ہوگی یا نہیں اس بارے میں آئندہ چند گھنٹوں میں فیصلہ متوقع ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے فوری مذاکرات شروع کیے جائیں گے، جبکہ آبنائے ہرمز کا معاملہ ایران اور عمان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہے تو اسے معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے عوض فیس وصول کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس افزودہ یورینیم کو کم درجے پر لانے کا آپشن موجود ہے، تاہم ایرانی جوہری مواد ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا۔
اسماعیل بقائی کے مطابق آئندہ 60 دنوں کے دوران کسی بھی فریق کو خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی نئی پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایران پر عائد تیل کی پابندیاں ختم کی جائیں اور ایران کو فوری طور پر تیل فروخت کرنے کی اجازت دی جائے۔


