میڈرڈ: اسپین امیگریشن پروگرام غیرملکی تارکینِ وطن کی بڑی تعداد کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اسپین میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو قانونی حیثیت دینے کے حکومتی منصوبے کے تحت اب تک تقریباً 9 لاکھ درخواستیں جمع ہوچکی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق یہ تعداد حکومت کی ابتدائی توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسپین حکومت کو اس پروگرام کے تحت تقریباً 5 لاکھ درخواستوں کی توقع تھی، تاہم وزارتِ مہاجرت کے مطابق موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد تقریباً 9 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ درخواستوں میں مزید اضافہ بھی جاری ہے۔
پناہ گزینوں کی مدد کرنے والی تنظیم سی ای اے آر کے مطابق پروگرام مکمل ہونے تک درخواستوں کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کرسکتی ہے۔ اس پروگرام کا مقصد غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو باقاعدہ لیبر مارکیٹ میں شامل کرنا اور معیشت میں ان کے کردار کو قانونی شکل دینا ہے۔
اسپین ان چند یورپی ممالک میں شامل ہے جو سخت امیگریشن پالیسیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باوجود تارکینِ وطن کے لیے نسبتاً نرم پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اسپین کی حالیہ معاشی ترقی میں تارکینِ وطن نے اہم کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر ہوٹلنگ، بزرگوں کی دیکھ بھال اور دیگر شعبوں میں افرادی قوت کی کمی پوری کرنے میں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسپین نے اپریل سے اب تک 3 لاکھ 60 ہزار عارضی ورک پرمٹس بھی جاری کیے ہیں، جو موصول ہونے والی درخواستوں کا تقریباً 40 فیصد بنتے ہیں۔ اس سے درخواست گزاروں کو قانونی عمل کے دوران کام کرنے کی اجازت ملتی ہے۔


