کراچی: پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد ملکی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے نکل کر دوبارہ سرپلس میں آ گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مئی 2026 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 45 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سرپلس رہا۔
رپورٹ کے مطابق اپریل 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ 27 کروڑ 60 لاکھ ڈالر خسارے میں تھا، تاہم مئی میں صورتحال بہتر ہوئی اور بیرونی کھاتوں میں مثبت تبدیلی دیکھی گئی۔ گزشتہ سال مئی 2025 میں بھی کرنٹ اکاؤنٹ 4 کروڑ 40 لاکھ ڈالر خسارے میں تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ کا مجموعی توازن 25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سرپلس رہا۔
معاشی ماہرین کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری کی بڑی وجہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں اضافہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق مئی 2026 میں ورکرز ترسیلات زر 4.25 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ترسیلات زر میں اضافہ اور درآمدات پر دباؤ کم رہتا ہے تو پاکستان کے بیرونی کھاتوں میں مزید استحکام آ سکتا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے، تاہم اس تسلسل کو برقرار رکھنا اہم ہوگا۔


