Close Menu
K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    مقبول خبریں
    خاص خبریں

    میجر جنرل فیصل نصیر نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کي جانب سے نوٹی فکیشن جاری

    ستمبر 4, 2026
    ترقی

    سندھ میں پبلک ٹرانسپورٹ کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ

    ستمبر 4, 2026
    امن

    پشاور میں مبینہ پولیس مقابلہ، نورے گینگ کے 3 مطلوب ملزمان ہلاک

    ستمبر 4, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ستمبر 4, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    رابطہ کریں کےٹو ٹی وی
    • صفحہ اول
    • قومی خبریں
    • ہزارہ
    • پوٹھوہار
    • گلگت بلتستان
    • چترال
    • شوبز
    • دلچسپ و عجیب
    • کھیل
    • کےٹو ٹی وی
    KAY2 TV
    K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    You are at:Home»بلاگ»کیا بلدیاتی انتخابات کا انعقاد جماعتی بنیاد پر کرانا آئینی عمل ہے !!!! تحریر علی شیر
    بلاگ جون 16, 2026

    کیا بلدیاتی انتخابات کا انعقاد جماعتی بنیاد پر کرانا آئینی عمل ہے !!!! تحریر علی شیر

    جون 16, 20265 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    چونکہ قانون سازی کا اختیار مقننہ کو حاصل ہے کہ وہ عوامی نمائندگی کے لیے جماعتی یا غیر جماعتی نظام میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے، بشرطیکہ یہ انتخاب آئین کے بنیادی حقوق سے متصادم نہ ہو۔ بلدیاتی انتخابات کے جماعتی اور غیر جماعتی بنیاد پر کروائے جانے والے عمل پر جب ہم قانون سے راہنمائی لینے کے لئیے گلگت بلتستان لوکل گورنمنٹ ایکٹ، 2014 کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں بلدیاتی انتخابات کے جماعتی بنیادوں پر انعقاد کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔خصوصاً دفعہ 18(1) میں درج ہے:
    "The election to the Local Councils shall be held on party basis as regulated by the Chief Election Commissioner.”
    اس شق میں لفظ "shall” استعمال ہوا ہے، جو قانونی اصطلاح میں ایک لازمی حکم کو ظاہر کرتا ہے، نہ کہ محض ایک اختیاری تجویز کو۔ اس بنا پر بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے؛ لہٰذا موجودہ قانون کی روشنی میں گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات کا جماعتی بنیادوں پر انعقاد ایک قانونی تقاضا ہے، نہ کہ الیکشن کمیشن یا حکومت کی صوابدید۔

    البتہ اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ آیا اس شق کی نوعیت لازمی ہے یا محض رہنما تو اس کا حتمی تعین عدالتی تشریح سے ہوتا ہے۔ تاہم لفظ "shall” کے استعمال اور دفعہ 18(1) کی عبارت کو دیکھتے ہوئے غالب قانونی رائے یہی ہوگی کہ جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرانا لازم ہے، جب تک کہ قانون میں ترمیم یا کسی مجاز عدالت کی جانب سے اس کی مختلف تشریح نہ کی جائے۔

    اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ بہت سی شخصیات اپنے نظریات اور عوامی مقبولیت کی بنیاد پر جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہوتے ہیں تو ایسے میں یہ قانون ان کا جمہوری حق پر قدغن لگانے کے مترادف ہے یا نہیں. کیا بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کروانا جمہوریت کی روح کیخلاف ہے یا نہیں جبکہ صوبائی و قومی اسمبلی انتخابات میں جماعتی پابندی لازم نہیں ایسے میں بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیاد پر لازم کیوں؟

    یہ سوالات جب ہم سیاسی جماعتوں کے سامنے رکھتے ہیں تو وہ جماعتی بنیاد پر بلدیاتی، صوبائی، قومی انتخابات کے حق میں کہتے ہیکہ سیاسی جماعتیں جمہوری نظام کا بنیادی ستون ہیں اور انتخابات کا تعلق بھی جمہوری نظام سے جڑا ہوا ہے عوام بلدیاتی، صوبائی، قومی انتخابات میں امیدواروں کے ساتھ ان کے ساتھ منسلک سیاسی جماعتوں کا منشور اور کارکردگی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، عوامی سطح پر ووٹ بینک کا بڑا حصہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ وابستگی کا ہوتا ہے اور اگر ہم احتسابی عمل کی بات کرے تو سیاسی جماعتیں ہی اپنے منتخب نمائندوں کی کاکردگی کی بنیاد پر ان کا مواخذہ کر سکتی ہے اسی احتسابی عمل ہی کی بنیاد پر منتخب نمائندوں کی ترجیح عوامی نوعیت کے مسائل کو حل کرنا ہی ہوتے ہیں۔

    اور یہی سوالات جب ہم سماج کے مختلف اسٹیک ہولڈرز اور غیر جماعتی سیاسی کرداروں کے سامنے رکھتے ہیں تو ان کا عمومی مئوقف سیاسی جماعتوں کے مئوقف کے برخلاف ہوتا ہے۔ جماعتی نظام کے برخلاف سماج کے دیگر اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہیکہ بہت سے باصلاحیت اور عوامی مقبولیت رکھنے والے افراد کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں ہوتے ہیں وہ اپنی سوچ، نظریہ اور عوامی مقبولیت کی بنیاد پر اس پوزیشن میں ہوتے ہیکہ وہ منتخب ہوکر بغیر جماعتی وابستگی کے وہ عوامی نمائندگی کا بھرپور مظاہرہ کرسکتے ہیں اور سیاسی جماعتیں ان آزاد عوامی نمائندوں کے لئیے رکاوٹ بنتی ہیں۔

    بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر درحقیقت مقامی مسائل کے بجائے قومی یا صوبائی سیاسی تقسیم کو فروغ دیتے ہیں اس سے آزاد امیدواروں کے سیاسی حقوق اور عوام کے آزادانہ انتخاب کے دائرے میں عملی طور پر کمی واقع ہوتی ہے۔

    سیاسی جماعتیں دوہرا معیار اپناتی ہیں قومی و صوبائی انتخابات میں غیر جماعتی بنیاد پر بھی شخصیات حصہ لے سکتے ہیں تو پھر بلدیات میں جماعتی بنیاد لازم کیوں درحقیقت سیاسی جماعتیں خود یہ نہیں چاہتی کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوں تو اسی لئیے اول وہ بلدیاتی انتخابات کے راستے میں خود رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں نیز یہ کہ الیکشن کمیشن کو حاصل اختیارات کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاسی جماعتوں نے بلدیات کو جماعتی بنیاد پر اس لئیے قانون سازی کے ذریعے لازم قرار دیا کہ اگر الیکشن کمیشن کبھی اپنے اختیارات کو بروئے کار لا کر بلدیاتی انتخابات کروا بھی لے تو نچلی سطح پر اختیارات منتقلی ان سیاسی جماعتوں کے منظور نظر کرداروں کو تفویض یوں بلدیات میں منتخب کردار حقیقی عوامی نمائندگی کے بجائے اس جماعت کے محض ڈمی نمائندوں کے طور پر اپنا کردار نبھائیں گے۔

    جماعتی اور غیر جماعتی بنیاد انتخابات مکالمہ میں دونوں اطراف سے مضبوط دلائل پیش کئے جاتے ہیں چونکہ قانون میں تشریح موجود ہے تو اس بنیاد پر الیکشن کمیشن جماعتی بنیاد پر بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرانے کا پابند ہے۔

    بحیثیت صحافی، معاشرتی فرد کی حیثیت سے میرے رائے میں غیر جماعتی بنیاد کے حق میں پیش کئے جانے والے دلائل زیادہ مضبوط ہیں۔ ہاں مگر اس قانون کو اس مؤقف کے ساتھ آج تک کسی فرد، تنظیم یا ادارہ نے عدالت میں چیلنج نہیں کیا، جماعتی بنیاد کے اس قانون کو چیلنج کیا جاسکتا ہے اوپر ذکر کردہ دلائل نیز اس میں مزید نکات بھی شامل کئے جاسکتے ہیں کہ جماعتی بنیادوں پر انتخابات:

    عوام کے آزادانہ انتخاب کے حق کو محدود کرتے ہیں؛
    آئین میں مذکور جمہوری اصولوں اور مساوات کے تقاضوں سے متصادم ہیں؛ یا آزاد امیدواروں کے سیاسی حقوق پر غیر متناسب پابندی عائد کرتے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleسٹاک ایکسچینج میں شاندار تیزی؛ کاروباری ہفتے کے پہلے ہی دن انڈیکس کی 5 سطحیں عبور
    Next Article اٹک میں کارروائی، 5 دہشت گرد ہلاک، خودکش جیکٹ اور اسلحہ برآمد
    Idrees
    • Website

    Related Posts

    ایک بیٹی، ایک ماں مریم نواز جیل کی سلاخوں سے اقتدار تک کا سفر, تحریر: علی شیر

    ستمبر 3, 2026

    مزاحمت کا مرد حر کی مفاہمتی سیاست اور نواز شریف سے اشتراک، تحریر: علی شیر

    اگست 31, 2026

    دیامر کی نیاٹ ویلی میں گلیشیئر میں خطرناک دراڑیں، مقامی آبادی کو خطرہ

    اگست 25, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    تازہ ترین خبریں
    خاص خبریں

    میجر جنرل فیصل نصیر نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کي جانب سے نوٹی فکیشن جاری

    ستمبر 4, 2026
    ترقی

    سندھ میں پبلک ٹرانسپورٹ کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ

    ستمبر 4, 2026
    امن

    پشاور میں مبینہ پولیس مقابلہ، نورے گینگ کے 3 مطلوب ملزمان ہلاک

    ستمبر 4, 2026
    آزاد کشمیر

    آزاد کشمیر کی 8 رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا

    ستمبر 4, 2026
    • Facebook
    • YouTube
    • Twitter
    • Instagram
    نمایاں خبریں
    اگست 31, 2026

    مزاحمت کا مرد حر کی مفاہمتی سیاست اور نواز شریف سے اشتراک، تحریر: علی شیر

    بلاگ

    پاکستان کی سیاست میں بعض القابات محض سیاسی نعروں سے پیدا نہیں ہوتے، انہیں وقت،…

    خاص خبریں

    پنجاب بائیک سکیم: آن لائن رجسٹریشن کیسے کریں؟ مرحلہ وار گائیڈ چیک کریں

    اپریل 15, 2024
    بلوچستان

    ژوب سے مبینہ اغواء ہونے والا طالب علم کوئٹہ پولیس نے بازیاب کرا لیا، 3 ملزمان گرفتار

    اگست 28, 2026
    ایڈیٹر کا انتخاب
    خاص خبریں

    پنجاب بائیک سکیم: آن لائن رجسٹریشن کیسے کریں؟ مرحلہ وار گائیڈ چیک کریں

    اپریل 15, 2024
    خاص خبریں

    پنجاب میں 50,000 گھروں کے لیے مفت سولر پینل! کیا آپ درخواست دینے کے اہل ہیں؟ یہاں چیک کریں!

    اپریل 16, 2024
    خاص خبریں

    ایبٹ آباد میں لاپتہ لیڈی ڈاکٹر وردہ کی لاش چار دن بعد برآمد، ڈاکٹروں کا احتجاج

    دسمبر 8, 2025
    مقبول خبریں
    خاص خبریں

    میجر جنرل فیصل نصیر نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کي جانب سے نوٹی فکیشن جاری

    ستمبر 4, 2026
    ترقی

    سندھ میں پبلک ٹرانسپورٹ کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ

    ستمبر 4, 2026
    امن

    پشاور میں مبینہ پولیس مقابلہ، نورے گینگ کے 3 مطلوب ملزمان ہلاک

    ستمبر 4, 2026

    نئے فالو اپ کے ساتھ

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

    .K2Times © 2026. All Rights Reserved

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.