اسلام آباد میں 17 سالہ معروف ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کے مقدمے کی تازہ سماعت میں عدالت نے استغاثہ کے مزید ایک گواہ کا بیان ریکارڈ کیا ہے اور کیس کی کارروائی اگلی تاریخ تک ملتوی کر دی ۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے کیس کی سماعت کی، جس میں سرکاری وکیل راجہ نوید حسین کیانی عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور استغاثہ نے اپنے دلائل مضبوط بنانے کے لیے مزید گواہان کے بیانات درج کروائے ۔
فیصلے سے قبل ملزم عمر حیات کے وکیل نے عدالت میں درخواست کی کہ ملزم کو قیدی بیرک میں تبدیلی کی اجازت دی جائے، کیونکہ ملزم کو موجودہ قید میں خطرناک قیدیوں کے ساتھ رکھا گیا ہے، تاہم عدالت نے ابھی اس بارے میں فیصلہ محفوظ رکھا ہے ۔
جج نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو متعلقہ ہدایات بھی جاری کیں تاکہ قیدی کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے ۔
عدالت میں مقدمے کا تمام مالِ مقدمہ جمع کرا دیا گیا ہے، جس میں ثنا یوسف کے قتل سے متعلق تحقیقات اور استغاثہ کے شواہد شامل ہیں، کیس کی آئندہ سماعت 10 فروری تک ملتوی کردی گئی ہے، جس میں استغاثہ اپنے باقی گواہان کے بیانات قلمبند کرے گا اور عدالتی کارروائی تیز ہوگی۔
واضح رہے کہ ثنا یوسف کو 2 جون 2025 میں ان کے گھر سیکٹر G-13، اسلام آباد میں ایک مسلح حملہ آور گولی مار دی تھی۔ پولیس نے عمر حیات نامی شخص کو 20 گھنٹے کے اندر فیصل آباد سے گرفتار کیا تھا، جس کے قبضے سے قتل میں استعمال ہونے والا پستول بھی برآمد ہوا تھا ۔


