جنوبی وزیرستان: گزشتہ پی ٹی آئی حکومت میں جنوبی وزیرستان میں سکولوں کی بد حالی اور تعلیمی نظام تباہ ہو کر رہ گیا۔
کرپٹ حکومت کی وجہ سے اساتذہ تنخواہ لے کر گھر بیٹھے رہے یا کہیں اور کام کر تے رہے ہیں جس سے تعلیمی نظام مکمل طور پر غیر فعال ہو کر رہ گیا ہے ۔
عوام کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ سکیورٹی کا نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ اساتذہ یہاں سے تنخواہ لے کر کہیں اور ملازمت کر رہے ہیں اور پی ٹی آئی حکومت میں سکول حجروں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
سکول کی عمارتیں لوگوں کے ذاتی حجرے بن چکی ہیں، بچے پڑھنے نہیں جا سکتے، سالوں سے یہی حال چل رہا ہے۔
پی ٹی آئی کے 13سالوں میں جو کچھ کرنا تھا وہ نہیں کیا، جو نظام خراب تھا اسے مزید خراب کر کے چھوڑ دیا۔
لوئر وزیرستان میں اساتذہ سالوں سے غائب ہیں مگر تنخواہ باقاعدہ مل رہی ہے، یہ عام لوگوں کے ٹیکس کے پیسوں پر کھلا ظلم ہے۔
جنوبی وزیرستان میں سینکڑوں اساتذہ صرف کاغذ پر موجود ہیں، کلاس میں نہیں جاتے مگر تنخواہ کٹتی رہی، اس سے بڑا فراڈ اور کیا ہو سکتا ہے۔
لاکھوں روپے کی تنخواہیں ادا ہوئیں مگر کوئی نگرانی نہیں ہوئی، افسران دور کے سکولوں میں جاتے ہی نہیں، اسی لیے غائب اساتذہ بے خوف ہو گئے۔
عوام نے کہا ہے کہ اب گورنر راج میں جو کارروائی شروع ہوئی ہے وہ انتہائی ضروری ہے، غائب اساتذہ اور کالی بھیڑوں کے خلاف سخت قدم اٹھانے چاہیے۔


