لاہور: پنجاب میں زیر زمین پانی کے ذخائر تیزی سے ختم ہونے لگے.
ماہرین نے ہر گھر میں ری چارج ویل لازمی قرار دینے کی تجویز دیدی۔
پنجاب میں مون سون بارشوں کا آغاز ہو چکا ہے اور مختلف اضلاع میں موسلا دھار بارشیں جاری ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر سال بارشوں سے ملنے والا اربوں گیلن پانی نالوں اور دریاؤں کے ذریعے ضائع ہو جاتا ہے.
لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں زیرزمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بارش کے پانی کو محفوظ کر کے دوبارہ زمین میں جذب کرنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ نسلوں کو پانی کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پنجاب یونیورسٹی کے ماہر آبی وسائل انجینئر ڈاکٹر محمد یاسین کے مطابق لاہور میں زیرزمین پانی کی سطح اوسطاً ایک سے ڈیڑھ میٹر سالانہ نیچے جا رہی ہے۔
ان کے مطابق شہر کی آبادی، پانی کی بڑھتی ہوئی طلب، کنکریٹ کے پھیلاؤ، دریاؤں اور نہروں میں پانی کی کمی اور مسلسل ٹیوب ویلوں کے استعمال کے باعث زیرزمین آبی ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بارش کا پانی اگر ری چارج ویلز، ری چارج پٹس، بائیو سویلز اور زیرزمین فلٹریشن سسٹمز کے ذریعے زمین میں واپس پہنچایا جائے تو نہ صرف زیرزمین پانی کی سطح بہتر ہو سکتی ہے بلکہ شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کے مسائل میں بھی نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
ڈاکٹر محمد یاسین نے بتایا کہ پنجاب یونیورسٹی نے عالمی ادارہ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تعاون سے ایک رین واٹر ہارویسٹنگ اور ری چارج ویل نظام نصب کیا ہے جہاں عمارتوں کی چھتوں اور کھلے میدانوں سے جمع ہونے والا بارش کا پانی فلٹر میڈیا سے گزار کر زمین میں واپس پہنچایا جاتا ہے، جس سے پانی قدرتی طور پر صاف ہو کر دوبارہ آبی ذخائر کا حصہ بن جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں قدرتی ری چارج کا عمل تیزی سے کم ہو رہا ہے کیونکہ شہر مسلسل کنکریٹ میں تبدیل ہو رہا ہے، جس کے باعث بارش کا پانی زمین میں جذب ہونے کے بجائے فوری طور پر نکاسی آب کے نظام میں چلا جاتا ہے۔
حکومت نے منصوبے کے پہلے مرحلے میں لاہور میں مزید 15 گراؤنڈ واٹر ری چارج ویلز تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے.
طویل المدتی منصوبے کے تحت شہر بھر میں ایک ہزار ری چارج ویلز قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ان منصوبوں کا مقصد مون سون کے دوران ضائع ہونے والے بارشی پانی کو محفوظ بنا کر زیرِ زمین آبی ذخائر کو دوبارہ بھرنا، گرتی ہوئی واٹر ٹیبل کو بہتر بنانا اور شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کے خطرات کو کم کرنا ہے۔


