کوئٹہ: کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک کے سانحے کے خلاف ایئرپورٹ روڈ پر گزشتہ پانچ روز سے جاری احتجاجی دھرنا ختم۔
دھرنا وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور دھرنا کمیٹی کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد ختم کر دیا گیا۔
دھرنا ختم ہونے کے ساتھ ہی شرکاء نے احتجاجی کیمپ اور ٹینٹ ہٹا دیے جبکہ پانچ روز سے بند ایئرپورٹ روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بحال کر دی گئی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دھرنا کمیٹی، شہداء کے لواحقین اور قبائلی عمائدین سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی۔
ملاقات میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، سینیٹر منظور احمد کاکڑ، کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب کاکڑ، معاون خصوصی برائے اطلاعات شاہد رند اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
معاون خصوصی شاہد رند کے مطابق دھرنا کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کامیاب رہے۔
لواحقین نے وزیراعلیٰ کی یقین دہانیوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ پہلے دن سے دھرنا کمیٹی کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور مسئلے کے پرامن، باوقار اور دیرپا حل کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں اور ان کے بزرگوں کے ساتھ ان کا دیرینہ تعلق احترام اور اعتماد پر مبنی ہے، جو آئندہ بھی برقرار رہے گا۔
یاد رہے کہ 5 جولائی کو کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک، کلی ببری میں نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کرکے 5 شہریوں کو قتل، 8 افراد کو زخمی جبکہ 11 افراد کو اغوا کر لیا تھا۔
اس واقعے کے خلاف لواحقین اور اہلِ علاقہ نے ایئرپورٹ روڈ پر پانچ روز تک دھرنا دیا تھا، جس کے باعث شہر کی اہم شاہراہ بند رہی اور ٹریفک شدید متاثر ہوئی۔


