وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیرِ صدارت محرم الحرام کے سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں امام بارگاہوں، ماتمی جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جلوسوں اور مجالس کے داخلی و خارجی راستوں کی چیکنگ مزید سخت کی جائے اور جامع ٹریفک پلان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سیف سٹی کے تحت مرکزی کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے جبکہ مجالس اور جلوسوں کی سکیورٹی کے لیے چار تہوں پر مشتمل حفاظتی حصار قائم کیا جائے گا۔ اس موقع پر "محفوظ محرم” کے نام سے خصوصی ایپلی کیشن کی فعالیت کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا، جس کے ذریعے مشکوک افراد، غیر معمولی سرگرمیوں اور سکیورٹی خامیوں کی فوری اطلاع دی جا سکے گی۔ ایپ میں لائیو لوکیشن اور دیگر تفصیلات شیئر کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔
محسن نقوی نے ہدایت کی کہ محرم الحرام کے دوران تمام متعلقہ افسران فیلڈ میں موجود رہیں اور سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کے لیے خوراک اور پینے کے صاف پانی سمیت ضروری سہولیات بروقت فراہم کی جائیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے زور دیا کہ امن و امان کے قیام کے لیے علمائے کرام سے مسلسل رابطہ رکھا جائے، ضابطۂ اخلاق پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور اشتعال انگیز یا نفرت آمیز مواد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ سکیورٹی اقدامات کیے جائیں گے اور امن و امان برقرار رکھنے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔


