فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ممبر کسٹمز سید شکیل شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم ٹاسک فورس کی سفارشات وتجاویز اور ایف بی آرمیں جاری اصلاحات کے تحت بحری معیشت کے فروغ اور بین الاقوامی تجارت کو سہل بنانے کے لیے کسٹمز نظام میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کے نفاذ کاسلسلہ جاری ہے۔
وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے میری ٹائم افیئرز کے چیئرمین افتخار احمد رائو اور سیکرٹری میری ٹائم افیئرز کے ہمراہ مشترکہ پریس بریفنگ سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی میں میری ٹائم افیئرز کا بنیادی کردار ہے اور اسی تناظر میں قائم کی گئی وزیراعظم کی ٹاسک فورس نے کسٹمز اور بندرگاہوں سے متعلق متعدد اہم مسائل کی نشاندہی کی، جن کے حل کے لیے موثر اقدامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان اقدامات کے نتیجہ میں نہ صرف ریونیو میں نمایاں اضافہ ہوا ہے بلکہ درآمدی سامان کی کلیئرنس کا دورانیہ بھی ایک سال کے اندر 52.9 گھنٹوں سے کم ہو کر 18.3 گھنٹے رہ گیا ہے۔
حکومت نے اس مدت کو مزید کم کرکے 12 گھنٹے تک لانے کا ہدف مقرر کیا ہے، بندرگاہوں پر50ہزارکنٹینرز کو اسٹور کرنے کی استعدادحاصل کرلی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹاسک فورس کی سفارشات کی روشنی میں ملک کی بندرگاہوں پر کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی کے لیے فیس لیس نظام نافذ کیا گیا،
جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ اس نظام کے تحت فی گڈز ڈیکلریشن اوسط ریونیو 16 فیصدکے اضافہ کے بعد 6.8 ملین روپے سے بڑھ کر 7.7 ملین روپے تک پہنچ گئی.
درآمدی ٹیکسوں کی وصولی میں مجموعی طور پر 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس میں 6 فیصد اضافہ درآمدی حجم بڑھنے جبکہ 8 فیصد اضافہ موثر نفاذ اور بہتر تعمیل کے باعث ممکن ہوا۔
ممبر کسٹمز نے کہا کہ بڑے تجارتی جہازوں کی پاکستانی بندرگاہوں پر آمد میں کمی کی ایک بڑی وجہ بنیادی ڈھانچے سے متعلق مسائل تھے، جن میں جہازوں کو ایندھن کی فراہمی (بنکرنگ) کے قواعد و ضوابط کی عدم موجودگی بھی شامل تھی۔
بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے بنکرنگ کے قواعد تیار کر لیے گئے ہیں اور انہیں باضابطہ طور پر نافذ بھی کر دیا گیا ہے.
کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں پر بڑے بحری جہازوں کو ایندھن فراہم کیا جا سکے گا جس سے بندرگاہی سرگرمیوں اور بحری تجارت میں اضافہ متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے دوران کارگو جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے کے بعد پاکستان نے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے اپنے قوانین اور ضوابط کو اپ گریڈ کیا ہے۔
اس سلسلے میں آف ڈاک ٹرمینلز پر بھی اضافی انتظامات کیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں اب ملک کی بندرگاہوں اور آف ڈاک ٹرمینلز پر مجموعی طور پر 50 ہزار کنٹینرز ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔
سید شکیل شاہ نے بتایا کہ بحری صنعت کے فروغ کے لیے پہلے ویسلز اور شپ بلڈنگ پر کسٹمز ڈیوٹیاں ختم کی گئی تھیں جبکہ نئے مالی سال کے بجٹ میں ان پر عائد سیلز ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا ہے تاکہ مقامی شپ بلڈنگ اور میری ٹائم سیکٹر کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ٹاسک فورس کی سفارشات پر عمل درآمد کرتے ہوئے انفورسمنٹ کے شعبے میں بھی نمایاں اصلاحات کی گئی ہیں۔
اضاخیل ڈرائی پورٹ پر بھی فیس لیس نظام نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ ایف بی آر کی ڈیجیٹل اصلاحات کے تحت دریائے سندھ کے اطراف ملک بھر میں 35 ڈیجیٹل انفورسمنٹ سٹیشنز قائم کیے جا رہے ہیں۔
یہ سٹیشنز جدید ٹیکنالوجی اور ہدف پر مبنی کارروائیوں کے ذریعے مشکوک، سمگل شدہ اور ٹیکس چوری میں ملوث کارگو کی نشاندہی اور نگرانی کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی وصولیوں میں 124 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جس میں انفورسمنٹ اقدامات کا حصہ 48 فیصد رہا۔
انہوں نے کہا کہ تاجروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جہازوں اور کارگو کی آمد سے قبل درآمدی ڈیکلریشن جمع کرانے کی سہولت متعارف کرائی گئی ہے جس سے سامان کی بروقت کلیئرنس ممکن ہو رہی ہے۔
اب درآمد کنندگان کو پیشگی ادائیگی کے بغیر نسبتاً کم وقت میں کارگو کلیئر کرنے کی سہولت بھی حاصل ہے۔
سید شکیل شاہ نے بتایا کہ کسٹمز آپریشنز کو مرحلہ وار 24 گھنٹے فعال بنانے کے اقدامات جاری ہیں۔
اس کے علاوہ پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے بندرگاہوں سے وابستہ تمام اداروں کو ایک مربوط پلیٹ فارم پر یکجا کر دیا گیا ہے جبکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور وی بوک نظام کو بھی مزید جدید بنایا جا رہا ہے۔


