اسلام آباد کے سیکٹر ایچ-8 میں ’’معرکہِ حق یادگار‘‘ کی تعمیر کا کام شروع ہو گیا ہے تاکہ رواں سال مئی 2025 میں چار روزہ جنگ میں بھارت کو شکست دینے والی پاک فوج کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے۔ یہ یادگار پاکستان موومنٹ پارک میں بنائی جا رہی ہے، جسے وسعت دے کر نیا روپ دیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وفاقی حکومت کے فنڈز سے تعمیر ہونے والی یہ یادگار فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے زیرِ انتظام بن رہی ہے۔ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے جگہ ایف ڈبلیو او کے حوالے کر دی ہے۔
ایک سرکاری ذریعے کے مطابق، اس منصوبے کا مقصد ’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ کے شہدا و غازیوں کی قربانیوں کو امر کرنا ہے۔ ایف ڈبلیو او نے بھاری مشینری اور کرینوں کے ساتھ کام شروع کر دیا ہے، جبکہ موجودہ ڈھانچہ ہٹایا جا رہا ہے۔
یادگار میں ایک ناقابلِ تسخیر دیوار کا ماڈل شامل ہوگا، جو پاکستان کے مضبوط دفاعی نظام کی عکاسی کرے گا۔ بلند ترین قومی پرچم برقرار رہے گا، البتہ اس کی جگہ تبدیل ہو سکتی ہے۔
پاکستان موومنٹ پارک کو سی ڈی اے نے بھاری فنڈز سے پاکستان کی تاریخی جدوجہد کو تصویری شکل میں محفوظ کرنے کے لیے بنایا تھا تاھم اس کی چاردیواری مکمل نہیں ہوئی اور تصویری دیواریں خستہ حالت میں ہیں۔
معرکہِ حق ایک تاریخی فتح ہے، مگر تحریکِ پاکستان کی یادگار کو مسمار کرنے کے بجائے نئی یادگار کو کہیں اور تعمیر کیا جا سکتا تھا اور اگر دیکھا جائے تو اس کے لیے پریڈ گراؤنڈ بہترین جگہ ہے، جہاں 23 مارچ اور 6 ستمبر کو فوجی پریڈز منعقد ہوتی ہیں جو کہ عوام میں پاک فوج کی بہادری کو نمایاں کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔
تحریکِ پاکستان وہ عظیم جدوجہد ہے جس نے ایک آزاد وطن کی بنیاد رکھی۔ اس کی اہمیت قومی شناخت اور تاریخی تسلسل کا بنیادی ستون ہے۔ اس پارک کی بحالی اور تحفظ سے نئی نسل کو اپنی تاریخ سے جوڑا جا سکتا ہے۔ معرکہِ حق کی یادگار کے ساتھ تحریکِ پاکستان کی یادگار کو بھی عزت دینا قومی فریضہ ہے۔