سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی گئی،ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی کے سربراہ سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان نے رپورٹ جمع کروائی، رپورٹ پر انکوائری کمیٹی کے تمام اراکین کے دستخط ہیں، رپورٹ میں کمیٹی نے سانحہ پمز کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین بھی کردیا ۔
اسلام آباد: ذرائع نے کہا کہ ابتدائی رپورٹ میں کمیٹی نے سانحہ پمز کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین بھی کردیا، مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کےلئے سفارشات بھی دی گئی ہے، رپورٹ پر انکوائری کمیٹی کے تمام اراکین کے دستخط ہیں، کمیٹی نے سانحہ پمز کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین بھی کردیا ہے ۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ میں ریسکیو ٹیموں کو امدادی کارروائیوں میں درپیش مسائل کا بھی ذکر موجود ہے، پمز کا جو متعلقہ عملہ غیر حاضر تھا ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے، مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے لیے سفارشات بھی دی گئی ہیں، پمز کی انتظامیہ اور ڈاکٹروں کے انٹرویوز بھی رپورٹ کا حصہ ہیں جبکہ فائر بریگیڈ ریسکیو ٹیموں کے بیانات بھی رپورٹ میں شامل ہیں ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں پمز ہسپتال میں علاج اور ناکافی سہولیات کا بھی ذکر موجود ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ کوئی بھی چیز عالمی معیار کے مطابق نہیں، رپورٹ میں ذمہ داروں کے خلاف وزیراعظم کو کارروائی کرنے کی فوری سفارش کی گئی ہے ۔
دوسری جانب وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی ہدایت پر وفاق کے زیر انتظام تمام سرکاری اسپتالوں میں فوری طور پر فائر سیفٹی آڈٹ شروع کرنے کا حکم دے دیا گیا ۔
ترجمان وزارت صحت کے مطابق اس حوالے سے باقاعدہ مراسلہ بھی جاری کردیا گیا ہے، فائر سیفٹی آڈٹ مجاز اور ماہر فائر سیفٹی کمپنی کے ذریعے جامع طور پر کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، آڈٹ کے دوران فائر الارم، فائر فائٹنگ آلات، ایمرجنسی ایگزٹ اور ہنگامی صورتحال میں انخلا کے راستوں کا جائزہ لیا جائے گا ۔


