گلگت بلتستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے ضلع گلگت اور اسکردو میں تین روزہ کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ محکمہ داخلہ و جیل خانہ جات کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق کرفیو 2، 3 اور 4 مارچ تک نافذ العمل رہے گا۔
حکام کے مطابق حالیہ بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد حالات شدید کشیدہ ہو گئے تھے، جس کے باعث انسانی جان و مال کے تحفظ کیلئے یہ اقدام اٹھایا گیا۔ صورتحال کو قابو میں رکھنے کیلئے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کو طلب کر لیا گیا ہے جبکہ گلگت، اسکردو اور شگر میں فوج اور سول آرمڈ فورسز کی 14 روز کیلئے تعیناتی کی منظوری بھی دی گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پرتشدد مظاہروں کے دوران ایک سکیورٹی اہلکار سمیت مجموعی طور پر 14 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔ گلگت میں 7 افراد جان سے گئے اور 27 زخمی ہوئے، جبکہ اسکردو میں بھی 7 افراد جاں بحق اور 46 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
مشتعل مظاہرین کی جانب سے سرکاری و نجی املاک کو آگ لگانے کے متعدد واقعات پیش آئے۔ سکردو میں اقوام متحدہ کے دفتر، گرین گیسٹ ہاؤس، آئی ٹی پارک اور آرمی پبلک اسکول کو نذر آتش کر دیا گیا۔ گلگت میں اقوام متحدہ کے مرکزی دفتر اور UNDP GLOF-2 آفس بھی جل گئے۔ علاوہ ازیں سکردو میں آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کے زونل ہیڈ آفس اور 29 گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔
کشیدہ حالات کے باعث گلگت بلتستان کے تمام تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت کیلئے بند کر دیے گئے ہیں۔ حکام نے کرفیو کے دوران نرمی کے اوقات بھی جاری کیے ہیں:
2 مارچ:
رات 12 بجے سے دوپہر 12 بجے تک کرفیو
دوپہر 12 بجے سے شام 4 بجے تک نرمی
شام 4 بجے سے رات 12 بجے تک کرفیو
3 مارچ:
رات 12 بجے سے صبح 5 بجے تک نرمی
صبح 5 بجے سے شام 4 بجے تک کرفیو
شام 4 بجے سے رات 8 بجے تک نرمی
رات 8 بجے سے صبح 5 بجے تک کرفیو
4 مارچ:
صبح 5 بجے سے صبح 8 بجے تک نرمی
صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کرفیو
شام 4 بجے سے رات 8 بجے تک نرمی
رات 8 بجے سے رات 12 بجے تک کرفیو
گورنر اور نگران وزیر اعلیٰ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، مقررہ اوقات کی پابندی کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کریں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔


