چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام عالمی بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں ہے، اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کو باہمی احترام اور پر امن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلنا ہوگا۔
بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دورہ چین کے موقع پر گریٹ ہال آف دی پیپلز کے باہر استقبالیہ تقریب میں پہنچے جہاں چینی صدر نے ان کا استقبال کیا،امریکی صدر کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔
اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا۔
چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا میں ایسی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں جو ایک صدی میں نہیں دیکھی گئیں، بین الاقوامی صورتحال مسلسل تغیر پذیر اور ہنگامہ خیز ہے، کیا ہم مل کر عالمی چیلنجوں کا مقابلہ اور دنیا کو استحکام فراہم کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی دنیا اور اپنے عوام لیے ایک روشن مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں؟ یہ سوالات ہیں جن کا جواب بڑے ممالک کے رہنماؤں کی حیثیت سے ہمیں دینا ہے ۔
امریکی صدر نے کہا کہ وہ اس دورے پر "دنیا کے بہترین کاروباری رہنماؤں” کو ساتھ لائے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس ملاقات کو "اب تک کی سب سے بڑی سمٹ” قرار دیا ہے، اور وہ اس اجلاس کے منتظر ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ تعلقات ہمیشہ سے انتہائی شاندار رہے ہیں، تاریخی سربراہی ملاقات کا سب سے بڑا اور بنیادی فوکس باہمی تجارت پر ہوگا، دونوں ممالک کے درمیان آنے والی کئی دہائیوں تک بہترین اور مضبوط تعلقات قائم رہیں گے۔


