Close Menu
K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    مقبول خبریں
    بلاگ

    مسلط کی گئی شہادت, تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    فروری 11, 2026
    گلگت بلتستان

    گلگت بلتستان: نگران دور میں این او سی کا اجرا: آئین، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری, تحریر: علی شیر

    فروری 11, 2026
    فیچرڈ

    ایکسائز اینڈ نارکوٹکس پولیس ایبٹ آباد کی بڑی کارروائی ،منشیات کی بھاری کھیپ سمگل کرنے کی کوشش ناکام

    فروری 11, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    فروری 11, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    رابطہ کریں کےٹو ٹی وی
    • صفحہ اول
    • قومی خبریں
    • ہزارہ
    • پوٹھوہار
    • گلگت بلتستان
    • چترال
    • شوبز
    • دلچسپ و عجیب
    • کھیل
    • کےٹو ٹی وی
    KAY2 TV
    K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    You are at:Home»بلاگ»مسلط کی گئی شہادت, تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین
    بلاگ فروری 11, 2026

    مسلط کی گئی شہادت, تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    فروری 11, 20267 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    پاکستانی معاشرے میں تشدد کے تجربے کو سمجھنے کے لیے اب یہ کافی نہیں رہا کہ صرف واقعات گنوائے جائیں یا اعداد و شمار پیش کیے جائیں۔ اصل سوال یہ بن چکا ہے کہ ان واقعات کو کس زبان میں بیان کیا جا رہا ہے، اور وہ زبان اجتماعی سطح پر کن سماجی و سیاسی رویّوں کو معمول بنا رہی ہے۔ جب کسی معاشرے میں ایک مخصوص طبقے کے لیے جان کا تحفظ غیر یقینی ہو جائے اور اس عدم تحفظ کو مسلسل صبر، اجر اور شہادت کے الفاظ میں معنی دیے جائیں، تو تشدد محض ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ شہری زندگی کے تصور سے جڑ جاتا ہے۔ اسی تناظر میں ’’مسلط کی گئی شہادت‘‘ کا تصور سامنے آتا ہے—یعنی وہ حالت جہاں موت اخلاقی انتخاب نہیں بلکہ شہری وجود کی متوقع قیمت بن جائے۔

    تاریخی اور مذہبی روایت میں شہادت کو ہمیشہ ایک غیر معمولی اخلاقی مقام حاصل رہا ہے۔ اسے ظلم کے مقابلے میں شعوری انکار، اصولی استقامت اور رضاکارانہ قربانی کے طور پر سمجھا گیا ہے۔ کربلا کی روایت اسی لیے اخلاقی تاریخ میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے کہ وہاں قربانی جبر کا نتیجہ نہیں بلکہ انتخاب کا اظہار ہے۔ تاہم جدید قومی ریاست کے تناظر میں—جہاں شہری کے تحفظ، انصاف تک رسائی اور مساوی حقوق بنیادی اصول مانے جاتے ہیں—یہ سوال شدت اختیار کر لیتا ہے کہ اگر موت ایک معمول بن جائے تو کیا اسے اسی اخلاقی عظمت کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے؟

    جدید ریاست شہری اور ریاست کے درمیان ایک ذمہ دارانہ معاہدے کی نمائندہ ہوتی ہے۔ شہری وفاداری، اطاعت اور ٹیکس فراہم کرتا ہے، جبکہ ریاست اس کے بدلے جان، وقار اور حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ جب اس معاہدے میں توازن بگڑ جائے اور تشدد ایک مستقل امکان بن جائے، تو قربانی اور شہادت جیسے تصورات اپنی اصل معنویت سے ہٹ کر ایک سماجی بیانیے میں ڈھل جاتے ہیں۔ اس صورت میں شہادت ایک غیر معمولی اخلاقی انتخاب کے بجائے ایک متوقع انجام محسوس ہونے لگتی ہے، اور شہری تحفظ کا سوال پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

    پاکستان میں شیعہ شہریوں کا تجربہ اس تبدیلی کو نہایت وضاحت سے نمایاں کرتا ہے۔ عبادت گاہوں، مذہبی جلوسوں اور روزمرہ شہری سرگرمیوں کو نشانہ بنانے والے حملے—چاہے وہ پاراچنار میں ہوں، کوئٹہ، شکرگڑھ اور شکارپور میں، یا حالیہ دنوں میں، برسوں نہیں، اسلام آباد میں ایک مسجد پر—اس تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ عدم تحفظ اب کسی استثنائی صورت کے بجائے ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹنگ کے مطابق، ایسے واقعات کے بعد ریاستی ردِعمل اکثر محدود، تاخیری یا محض علامتی رہا ہے، جبکہ متاثرہ برادری کو نہ فوری تحفظ میسر آیا ہے اور نہ ہی مستقل انصاف۔

    ان حالات میں اجتماعی گفتگو اکثر صبر، اجر اور شہادت کے گرد منظم ہو جاتی ہے۔ یہ بیانیہ متاثرہ طبقے کو حوصلہ، شناخت اور بقا کا احساس فراہم کرتا ہے، مگر اس کے ساتھ ایک خاموش سوال بھی جنم لیتا ہے: شہری جان کے تحفظ اور ریاستی ذمہ داری کا مطالبہ کہاں کھڑا ہے؟ جب تشدد کے بعد مرکزی بیانیہ شہری حقوق کے بجائے قربانی پر مرکوز ہو جائے تو شہری حیثیت بتدریج علامتی بننے لگتی ہے۔

    فرقہ وارانہ تشدد کو محض مذہبی اختلافات کا نتیجہ سمجھنا سماجی حقیقت کو حد سے زیادہ سادہ بنا دیتا ہے۔ سماجی علوم اور انسانی حقوق کی رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ ایسا تشدد سیاسی ترجیحات، طاقت کے ڈھانچوں، ریاستی پالیسیوں کے عدم تسلسل اور بعض اوقات ادارہ جاتی خاموشی کے امتزاج سے جنم لیتا ہے۔ جب تشدد بار بار ایک ہی شناخت کو نشانہ بنائے اور ریاستی ردِعمل غیر مستقل رہے، تو متاثرہ گروہ میں یہ احساس پیدا ہونا فطری ہے کہ اس کی شہری حیثیت عملی طور پر کم زور ہو چکی ہے۔

    ایسے حالات میں مذہبی بیانیہ ایک خاص سماجی کردار ادا کرنے لگتا ہے۔ مذہبی تقاریر اور مجالس میں یہ جملے کثرت سے سننے کو ملتے ہیں کہ شہادت ہماری میراث ہے، قربانی فخر ہے، اور وطن کے لیے جان دینا اعلیٰ ترین درجہ رکھتا ہے۔ یہ جملے تاریخی وابستگی اور وفاداری کے اظہار کے طور پر اپنی جگہ اہم ہیں، مگر جب یہ بیانیہ مسلسل دہرایا جائے اور ساتھ ہی شہری تحفظ، احتساب اور ریاستی ذمہ داری کے سوالات پس منظر میں چلے جائیں، تو قربانی ایک اخلاقی چوٹی کے بجائے ایک قابلِ قبول معمول بننے لگتی ہے۔

    سماجی نفسیات کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایسے بیانیے فوری تسلی فراہم کرتے ہیں۔ غم کو معنی مل جاتا ہے، خوف کو وقار میں بدلا جاتا ہے اور نقصان کو اخلاقی عظمت کے پردے میں ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ مگر اس تسلی کی ایک قیمت بھی ہوتی ہے۔ جب شہادت کو مسلسل مرکزی مقام دیا جائے تو سوال اٹھانے، احتساب کا مطالبہ کرنے اور ریاستی ذمہ داری پر اصرار کرنے کی روایت کم زور پڑنے لگتی ہے۔ اس مرحلے پر شہادت ایک اخلاقی استثنا کے بجائے ایک تسکینی آلے میں تبدیل ہو جاتی ہے، جو درد کو محسوس ہونے سے پہلے ہی معنی میں لپیٹ دیتا ہے۔

    یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ مسئلہ مذہب یا مذہبی قیادت کی نیت کا نہیں بلکہ بیانیے کے اجتماعی اثرات کا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ریاست تشدد کو وقتی یا غیر معمولی واقعہ قرار دے کر اس کی ساختی نوعیت سے نظریں چرا لے، تو مذہبی تعبیرات اس خلا کو پُر کر دیتی ہیں۔ یہ تعبیرات فوری معنی تو فراہم کر دیتی ہیں، مگر دیرپا تحفظ، انصاف یا شہری برابری کی ضمانت نہیں بنتیں۔ یوں تشدد ایک عارضی بحران کے بجائے ایک مستقل سماجی پس منظر بن جاتا ہے۔

    اس تناظر میں ’’مسلط کی گئی شہادت‘‘ کا تصور ایک بنیادی سماجی سوال کو سامنے لاتا ہے۔ اس سے مراد وہ حالت ہے جس میں قربانی کسی آزاد اور رضاکارانہ اخلاقی فیصلے کے بجائے ایسے حالات کا نتیجہ بن جائے جہاں جان کا تحفظ پہلے ہی غیر یقینی ہو چکا ہو۔ جب کسی مخصوص گروہ کے لیے موت ایک مستقل امکان کے طور پر قبول کر لی جائے تو شہادت اپنی اخلاقی انفرادیت کھو دیتی ہے اور شہری معاہدے کی کم زوری کی علامت بن جاتی ہے۔

    یہاں وطن پر جان دینا اور جان سے محروم کر دیا جانا دو مختلف تصورات ہیں۔ پہلی صورت میں قربانی ایک شعوری اور اخلاقی فیصلہ ہوتی ہے؛ دوسری صورت میں یہ ریاستی ناکامی، سماجی بے حسی یا منظم تشدد کا نتیجہ بنتی ہے۔ ان دونوں کو یکساں اخلاقی درجے پر رکھنا فکری احتیاط کے منافی ہے۔ حب الوطنی کا تقاضا یہ نہیں کہ شہری خاموشی سے مرنے کو تیار ہو، بلکہ یہ کہ وہ اپنی جان، وقار اور حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرے۔

    یہ بحث شہادت کے مذہبی یا روحانی مفہوم کی نفی نہیں کرتی۔ سوال اس تصور کے سماجی اور سیاسی استعمال کا ہے۔ ایک صحت مند ریاست میں شہادت غیر معمولی ہوتی ہے، معمول نہیں۔ اگر کسی سماج میں قربانی کو واحد بیانیہ بنا دیا جائے تو یہ شہری شعور کو محدود اور ریاستی ذمہ داری کو غیر مرئی بنا دیتی ہے۔

    ’’مسلط کی گئی شہادت‘‘ پر سنجیدہ غور و فکر ہمیں اس امکان کی طرف لے جاتا ہے کہ شہادت کو دوبارہ اس کے اصل تناظر میں دیکھا جائے—یعنی ظلم کے خلاف ایک غیر معمولی اخلاقی موقف کے طور پر، نہ کہ ایک متوقع انجام کے طور پر۔ یہ سوال کسی ایک مذہبی گروہ تک محدود نہیں، بلکہ مجموعی طور پر شہری ریاست، شہری حقوق اور اجتماعی ذمہ داری کے تصور کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleگلگت بلتستان: نگران دور میں این او سی کا اجرا: آئین، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری, تحریر: علی شیر
    Idrees
    • Website

    Related Posts

    نگران دور میں این او سی کا اجرا: آئین، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری

    فروری 10, 2026

    کمزور مگر خطرناک ایران: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    فروری 5, 2026

    صنعتی نرخوں میں بڑی کمی: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    فروری 2, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    تازہ ترین خبریں
    گلگت بلتستان

    گلگت بلتستان: نگران دور میں این او سی کا اجرا: آئین، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری, تحریر: علی شیر

    فروری 11, 2026
    فیچرڈ

    ایکسائز اینڈ نارکوٹکس پولیس ایبٹ آباد کی بڑی کارروائی ،منشیات کی بھاری کھیپ سمگل کرنے کی کوشش ناکام

    فروری 11, 2026
    خاص خبریں

    ٹی 20 ورلڈکپ، پاکستان نے امریکہ کو 32 سے شکست دیدی

    فروری 10, 2026
    بین الاقوامی

    بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے جنوری میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول

    فروری 10, 2026
    • Facebook
    • YouTube
    • Twitter
    • Instagram
    نمایاں خبریں
    فروری 5, 2026

    کمزور مگر خطرناک ایران: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    بلاگ

    کمزور مگر خطرناک ایران، یہ فقرہ بظاہر ایک تضاد محسوس ہوتا ہے، مگر موجودہ بین…

    خاص خبریں

    پنجاب بائیک سکیم: آن لائن رجسٹریشن کیسے کریں؟ مرحلہ وار گائیڈ چیک کریں

    اپریل 15, 2024
    بلاگ

    مسلط کی گئی شہادت, تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    فروری 11, 2026
    ایڈیٹر کا انتخاب
    خاص خبریں

    پنجاب بائیک سکیم: آن لائن رجسٹریشن کیسے کریں؟ مرحلہ وار گائیڈ چیک کریں

    اپریل 15, 2024
    خاص خبریں

    پنجاب میں 50,000 گھروں کے لیے مفت سولر پینل! کیا آپ درخواست دینے کے اہل ہیں؟ یہاں چیک کریں!

    اپریل 16, 2024
    خاص خبریں

    ایبٹ آباد میں لاپتہ لیڈی ڈاکٹر وردہ کی لاش چار دن بعد برآمد، ڈاکٹروں کا احتجاج

    دسمبر 8, 2025
    مقبول خبریں
    گلگت بلتستان

    گلگت بلتستان: نگران دور میں این او سی کا اجرا: آئین، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری, تحریر: علی شیر

    فروری 11, 2026
    فیچرڈ

    ایکسائز اینڈ نارکوٹکس پولیس ایبٹ آباد کی بڑی کارروائی ،منشیات کی بھاری کھیپ سمگل کرنے کی کوشش ناکام

    فروری 11, 2026
    خاص خبریں

    ٹی 20 ورلڈکپ، پاکستان نے امریکہ کو 32 سے شکست دیدی

    فروری 10, 2026

    نئے فالو اپ کے ساتھ

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

    .K2Times © 2026. All Rights Reserved

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.