تہران: مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کے قیام اور ممکنہ امریکا ایران معاہدہ کی راہ ہموار کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں تیزی سے پیش رفت کر رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ایک اور اہم ملاقات کی ہے، جس میں جنگ کے خاتمے کے لیے تیار کردہ تازہ ترین مسودے پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے امریکا اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری اختلافات کا باعث بننے والے کلیدی نکات پر تفصیلی گفتگو کی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی گزشتہ کئی روز سے تہران میں موجود ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلائی جا سکے اور ایک پائیدار معاہدے کی بنیاد رکھی جا سکے۔
پاکستان کی ثالثی اور بالواسطہ مذاکرات
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی ثالثی کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ خوش اسلوبی سے جاری ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق، دونوں ممالک ایک ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں اور اس وقت مجوزہ سفارتی دستاویزات اور ڈرافٹ کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ چند اہم ترین معاملات اب بھی زیرِ بحث ہیں، لیکن مجموعی طور پر ڈرافٹ پر کام تیزی سے جاری ہے اور فریقین کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لیے پرامید ہیں۔
اختلافات میں کمی لیکن رکاوٹیں برقرار
دوسری جانب، عالمی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک باضابطہ طور پر کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا، تاہم تہران اور واشنگٹن کے مابین موجودہ اختلافات میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، معاہدے کی راہ میں اب بھی چند بڑی سفارتی رکاوٹیں موجود ہیں، جن میں:
-
ایران کا یورینیم افزودگی پروگرام
-
آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) پر کنٹرول کے معاملات
سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان کی یہ ثالثی کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف محسن نقوی کی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی، بلکہ اس ممکنہ امریکا ایران معاہدہ سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔


