نوشہرہ میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں جمعیت علمائے اسلام سميع الحق گروپ کے سربراه مولانا حامد الحق سمیت 6 افراد شہید اور 12 زخمی ہوگئے ہیں ۔
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا کہ حملہ ٹارگیٹڈ تھا جس میں 3 سے 4 افراد شہید ہوئے، حملے میں مولانا حامد الحق نشانہ تھے ، مولانا سمیع الحق کے بیٹے حامد الحق دارالعلوم حقانیہ کے نائب مہتمم بھی تھے ۔
دھماکے کے بعد پولیس نے علاقےکو گھیرے میں لے لیا، جبکہ ڈی پی او نوشہرہ عبدالرشید کے مطابق دھماکہ خودکش تھا، عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے بعد اس وقت ہوا جب دعاکے بعد مولانا حامد الحق مسجد کے مرکزی ہال سے باہر جارہے تھے ۔
دھماکے کے بعد نوشہرہ کے ہسپتالوں کے علاوہ پشاور کے تین بڑے ہسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے ۔
صدر مملکت، وزیراعظم، گورنر ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور دیگر سیاسی اور مذہبی رہنماوں نے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں خودکش دھماکے اور انسانوں جانوں کے ضیاع کی شدید مذمت کی ہے ۔
سیاسی قیادت نے آئی جی خیبرپختونخوا سے خودکش حملے کی رپورٹ طلب کرلی ہے ۔