کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نئے مالی سال کا 3.562 کھرب روپے کا بجٹ سندھ اسمبلی میں پیش کر دیا۔ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ حکومت عوام، کاروباری طبقے، کسانوں، مزدوروں اور نوجوانوں کو ریلیف دینے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کا بجٹ عوامی فلاح، مالیاتی پائیداری، آئینی حقوق اور معاشی ترقی کے اصولوں پر مبنی ہے۔
تنخواہوں، پنشن اور کم از کم اجرت میں اضافہ
مراد علی شاہ نے سندھ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا۔ بجٹ میں ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2022ء اور 2025ء کو ضم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق صوبے میں کم از کم اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 43 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے۔
کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ نئے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ انشورنس ایجنٹس اور بروکرز پر لاگو ٹیکسز میں کمی کی گئی ہے، جبکہ زرعی سپر ٹیکس کی استثنیٰ حد 150 ملین روپے سے بڑھا کر 500 ملین روپے کر دی گئی ہے۔
زرعی سپر ٹیکس کی شرح بھی 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔
سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر کا اعلان
مراد علی شاہ نے کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر قائم کرنے کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق یہ سینٹر انفراسٹرکچر فنانس، اسلامک فنانس اور کلائمیٹ فنانس کا اہم پلیٹ فارم ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کو تجارت، ٹیکنالوجی، فنانس اور توانائی کا علاقائی مرکز بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
کیٹی بندر کو نیا معاشی گیٹ وے بنانے کا عزم
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کیٹی بندر کو عالمی بحری، لاجسٹکس، صنعتی اور توانائی مرکز بنایا جائے گا۔ انہوں نے کیٹی بندر کو سندھ کی معاشی ترقی کا اگلا بڑا سنگ میل قرار دیا۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کیٹی بندر منصوبہ دھابیجی اسپیشل اکنامک زون اور تھر کے کوئلہ وسائل سے منسلک ہوگا، جس سے پاکستان عالمی تجارتی راستوں سے مزید مضبوط انداز میں جڑ سکے گا۔
سندھ کا بڑا سولر پروگرام
وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ میں پاکستان کی تاریخ کے بڑے سولر پروگرام کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ غریب گھرانوں کو 18 ارب روپے کی لاگت سے 2 لاکھ 75 ہزار مفت سولر ہوم سسٹمز دیے جائیں گے۔
متوسط طبقے کے لیے رعایتی سولر فنانسنگ پروگرام بھی متعارف کرایا جائے گا۔
ترقیاتی پروگرام اور اے ڈی پی
نئے مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام، یعنی اے ڈی پی، کا حجم 400 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ لوکل گورنمنٹ اور میونسپل انفراسٹرکچر کے لیے سب سے زیادہ 121.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے لیے 40.9 ارب روپے، ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے لیے 39.5 ارب روپے، آبپاشی کے لیے 30.9 ارب روپے، تعلیم کے لیے 25.9 ارب روپے، صحت کے لیے 17.4 ارب روپے، جبکہ زراعت اور لائیو اسٹاک کے لیے 6.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
کراچی کے لیے ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر منصوبے
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی کی ترقی کے لیے جدید انفراسٹرکچر اور مؤثر ٹرانسپورٹ نظام ضروری ہے۔ انہوں نے شاہراہِ بھٹو کو سندھ کی تاریخ کا بڑا شہری انفراسٹرکچر منصوبہ قرار دیا۔
ان کے مطابق شاہراہِ بھٹو پر 60.7 ارب روپے لاگت آئی، جبکہ اس منصوبے سے سفر کا دورانیہ کم ہو کر تقریباً 25 منٹ رہ گیا ہے۔ یہ منصوبہ روزانہ تقریباً 25 ہزار گاڑیوں کو سفری سہولت فراہم کر رہا ہے۔
کراچی کے لیے 50 جدید ڈبل ڈیکر بسوں کی خریداری کی منظوری بھی دی گئی ہے، جن میں سے 25 بسیں آئندہ تین ماہ میں کراچی کی سڑکوں پر آئیں گی۔ مزید 100 ای وی بسیں بھی شامل کی جائیں گی، جبکہ پنک بس سروس میں بھی توسیع کی جائے گی۔
سیلاب متاثرین کے لیے ہاؤسنگ پروگرام
مراد علی شاہ نے بتایا کہ 2022ء کے سیلاب متاثرین کے لیے سندھ پیپلز ہاؤسنگ پروگرام کے تحت 10 لاکھ گھر مکمل کیے جا چکے ہیں۔ مزید 17 لاکھ ہاؤسنگ یونٹس کے لیے عالمی تعاون سے فنڈز حاصل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے لاکھوں خواتین کو زمین کے مالکانہ حقوق دے کر بااختیار بنایا گیا ہے۔
صحت، تعلیم اور سوشل پروٹیکشن
بجٹ میں صحت کے اہم اداروں، جن میں این آئی سی وی ڈی، ایس آئی سی وی ڈی، ایس آئی یو ٹی اور جے پی ایم سی شامل ہیں، کی خدمات میں توسیع کا اعلان کیا گیا ہے۔ 1122 ایمبولینس نیٹ ورک اور 1123 ٹیلی طبیب سروس کو بھی مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
سوشل پروٹیکشن پیکیج کے لیے 13.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس پیکیج میں کچن گارڈن، بینظیر ہاری کارڈ، بینظیر ویمن ایگریکلچر ورکرز پروگرام، بیواؤں اور یتیموں کے لیے امدادی اسکیمیں شامل ہیں۔
سندھ سیف سٹیز پروگرام
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی میں سندھ سیف سٹیز پروگرام کے تحت 1325 اسمارٹ کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ چہرہ شناس اور نمبر پلیٹ شناختی ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی کا نظام بہتر بنایا گیا ہے۔
ان کے مطابق کراچی میں گاڑیوں کی چوری اور چھیننے کے واقعات میں 67 فیصد جبکہ اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں 54 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ صوبے کو جنوبی ایشیا کی ابھرتی ہوئی معاشی طاقت بنانے کے لیے ترقی، روزگار، ٹیکنالوجی، توانائی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔


