کوئٹہ: نواحی سیاحتی مقام ہنہ اوڑک میں اتوار کی شام قبائلی افراد اور مسلح عناصر کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 4 مقامی افراد جاں بحق جبکہ 9 افراد زخمی ہوگئے۔
واقعے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی جب کہ مسلح افراد چند مقامی افراد کو اپنے ساتھ اغوا کرکے لے گئے، جن کی بازیابی کے لیے سیکیورٹی فورسز اور متعلقہ اداروں کی جانب سے کوششیں جاری ہیں۔
واقعے کے بعد مقامی افراد نے احتجاجاً ائیرپورٹ روڈ پر دھرنا دے دیا ہے، جس کے باعث ٹریفک معطل ہوگئی اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔
ہنہ اوڑک جانے والے سیاح اور شہری بھی کئی گھنٹوں تک مختلف مقامات پر پھنسے رہے۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کے واقعے کی اطلاع ملتے ہی فرنٹیئر کور (ایف سی)، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا، جو تاحال جاری ہے۔
واقعے کے بعد حکومت بلوچستان نے کوئٹہ کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
دوسری جانب احتجاجی مظاہرین کا ائیرپورٹ روڈ پر دھرنا تاحال جاری ہے، جس کے باعث شہر میں آمدورفت شدید متاثر رہی اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔


