اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہاہے کہ پولیو سے پاک پاکستان کا حصول ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم ہمارا عزم اور حوصلہ اس چیلنج سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں اور تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے پاکستان سے پولیو کا مکمل خاتمہ یقینی بنانا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت انسداد پولیو پر جائزہ اجلاس ہوا۔
اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے ملک بھر میں انسداد پولیو مہمات کے کامیاب انعقاد کے لیے فرنٹ لائن پولیو ورکرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عزم، محنت اور خدمات کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ انسداد پولیو مہمات کے دوران فرنٹ لائن ورکرز کی مسلسل رسائی اور ان کی سکیورٹی یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی، اور خصوصی طور پر پولیو سے متاثرہ اور پولیو کے حوالے سے تشویش کے حامل علاقوں میں حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج بڑھانے کی بھی ہدایت کی۔
انہوں نے سکیورٹی کے حوالے سے حساس اور مشکل علاقوں میں انسداد پولیو مہمات کے لیے رسائی میں نمایاں بہتری کو قابل تحسین قرار دیا۔
وزیراعظم نے ملک میں سامنے آنے والے حالیہ پولیو کیسز پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پولیو کے خلاف پہلے سے زیادہ بہتر حکمت عملی اور بھرپور جدوجہد سے آگے بڑھنا ہوگا۔
وزیراعظم نے وفاقی وزیر، وزیر مملکت، سیکرٹری قومی صحت اور انسداد پولیو ٹیم کے اراکین کو فوری طور پر چاروں صوبوں کا دورہ کر کے وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکریٹریز سے ملاقاتوں کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے کے اندر چاروں صوبوں سے مشاورت کے بعد انسداد پولیو کا مربوط لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
اجلاس کو ملک میں حالیہ پولیو کیسز اور انسداد پولیو کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ آج ہی ضلع خیبر سے پولیو کا نیا کیس سامنے آیا ہے جس کے بعد رواں سال ملک میں پولیو کیسز کی تعداد 9 ہو گئی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2026 میں صوبہ خیبرپختونخوا میں ضلع خیبر سے 3، بنوں سے 3 اور شمالی وزیرستان سے ایک پولیو کیس سامنے آیا، جب کہ ضلع خیبر سے سامنے آنے والے تمام پولیو کیسز افغانستان کے پولیو وائرس سے متعلق ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں سال صوبہ سندھ میں ضلع کراچی شرقی سے ایک اور ضلع سجاول سے ایک پولیو کیس سامنے آیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ افغانستان سے ہونے والی آمد و رفت پاکستان میں اس وقت پولیو کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب میں فروری 2025 سے پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا، صوبہ بلوچستان سے 2025 اور 2026 میں پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا
آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان پہلے سے پولیو سے پاک ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں سال صوبہ سندھ کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مقدار میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، اور انسداد پولیو ٹیموں کی سکیورٹی بہتر بنانے اور انہیں خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں بہتر رسائی دینے کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔


