جامعہ کراچی کے شعبہ سندھی ثقافت میں طلبہ کے درمیان ہونے والے پرتشدد تصادم کے بعد مبینہ ٹاؤن تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا.
سندھ حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ ایک طالب علم کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں 20 طلبہ کو نامزد اور متعدد نامعلوم افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ تصادم کے دوران ڈنڈوں، سریوں اور لوہے کی راڈوں کا استعمال کیا گیا، جس سے کئی طلبہ زخمی ہوئے۔
واقعے کی اطلاع پر پولیس اور جامعہ کی سیکیورٹی موقع پر پہنچ گئی.
زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس نے ہنگامہ آرائی اور تشدد کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ایس ایچ او مبینہ ٹاؤن کے مطابق کارروائی کے دوران 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے دیگر ملزمان کی شناخت اور واقعے کے محرکات کی تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب وزیر جامعات سندھ محمد اسماعیل راہو نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پانچ رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
یہ کمیٹی 15 روز کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
کمیٹی کو شفاف تحقیقات، ذمہ دار افراد کے تعین اور انتظامی و سیکیورٹی غفلت کا جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
واقعے کے بعد جامعہ کراچی میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
سندھ حکومت نے واضح کیا ہے کہ جامعات میں تشدد اور بدامنی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔


