تہران: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو تمام بین الاقوامی تجارتی اور کمرشل جہازوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں واضح کیا کہ یہ فیصلہ خطے میں امن اور تجارتی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران تمام بحری جہاز ایران کے مقرر کردہ مربوط (Coordinated) روٹس کے ذریعے محفوظ سفر کر سکیں گے۔
عباس عراقچی نے مزید وضاحت کی کہ بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے لیے مخصوص روٹس پہلے ہی ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کیے جا چکے ہیں۔ عالمی تجارتی کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انہی راستوں کا استعمال کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور تجارت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایران کے اس فیصلے سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں استحکام اور بحری تجارت میں حائل رکاوٹیں دور ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ سفارتی ماہرین اسے تہران کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش قرار دے رہے ہیں۔


