Close Menu
K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    مقبول خبریں
    خاص خبریں

    گلگت بلتستان انتخابات 2026: شفافیت کے تقاضے، خدشات اور سیاسی بساط کا فیصلہ کن مرحلہ: تحریر جی ایم ایڈووکیٹ

    اپریل 18, 2026
    خاص خبریں

    ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی، وزیراعظم شہباز شریف نے 32 روپے 12 پیسے فی لیٹر کمی کی منظوری دے دی

    اپریل 18, 2026
    بین الاقوامی

    ایران کا تمام تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان: جنگ بندی معاہدے پر اہم پیش رفت

    اپریل 17, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اپریل 18, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    رابطہ کریں کےٹو ٹی وی
    • صفحہ اول
    • قومی خبریں
    • ہزارہ
    • پوٹھوہار
    • گلگت بلتستان
    • چترال
    • شوبز
    • دلچسپ و عجیب
    • کھیل
    • کےٹو ٹی وی
    KAY2 TV
    K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    You are at:Home»خاص خبریں»گلگت بلتستان انتخابات 2026: شفافیت کے تقاضے، خدشات اور سیاسی بساط کا فیصلہ کن مرحلہ: تحریر جی ایم ایڈووکیٹ
    خاص خبریں اپریل 18, 2026

    گلگت بلتستان انتخابات 2026: شفافیت کے تقاضے، خدشات اور سیاسی بساط کا فیصلہ کن مرحلہ: تحریر جی ایم ایڈووکیٹ

    اپریل 18, 20268 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    گلگت بلتستان کے عام انتخابات 2026 محض ایک معمولی انتخابی عمل نہیں بلکہ ایک حساس خطے میں ریاستی ساکھ، عوامی اعتماد اور جمہوری تسلسل کا امتحان ہیں۔ اس خطے کی متنازعہ آئینی حیثیت، اس کی جیوپولیٹیکل اہمیت اور حالیہ عوامی احتجاجات کے تناظر میں یہ انتخابات غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ اگر انتخابی عمل شفاف، غیر جانبدار اور عوامی امنگوں کے مطابق نہ ہوا تو نہ صرف مقامی سطح پر بے چینی (Unrest) پیدا ہونے کا خدشہ ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، جہاں بھارت جیسا ازلی دشمن پہلے ہی گلگت بلتستان کی سیاسی و آئینی صورتحال ہر نظریں جمائے رہتا ہے۔

    ایسے حالات میں ضروری ہے کہ ریاستی ادارے، الیکشن کمیشن اور تمام سیاسی قوتیں اس عمل کو ہر قسم کے دباؤ، مداخلت اور شکوک و شبہات سے پاک رکھیں، تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور خطہ کسی نئی سیاسی یا سماجی کشیدگی کی طرف نہ بڑھے. گلگت بلتستان میں عام انتخابات 2026 ایک ایسے وقت میں منعقد ہونے جا رہے ہیں جب سیاسی درجہ حرارت، عوامی توقعات اور شفافیت سے متعلق خدشات عروج پر ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن نمبر ELC-1(1)GBE 2025 مورخہ 11 اپریل 2026 کے مطابق گلگت بلتستان کے عام انتخابات 7 جون 2026 کو منعقد ہوں گے، جن میں کل 24 حلقوں پر مقابلہ ہوگا جبکہ مجموعی ووٹرز کی تعداد 963,034 ہے، جن میں 52.55 فیصد مرد اور 47.45 فیصد خواتین شامل ہیں۔ اسی پریس کانفرنس میں چیف الیکشن کمشنر نے یہ بھی اعلان کیا کہ بلدیاتی انتخابات 14 جون 2026 کو کرانے کا ارادہ ہے، جس کا باضابطہ شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا۔ یہ اعلان بذات خود ایک اہم بحث کو جنم دیتا ہے کہ آیا بلدیاتی انتخابات عام انتخابات کے فوراً بعد کرانا شفافیت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوگا یا نہیں۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن نمبر ELC-1(40)2025 مورخہ 11 اپریل 2026 جاری کرتے ہوئے 24 حلقوں کے لیے DROs، ROs اور AROs کی تعیناتی کی، جس پر مختلف حلقوں سے شدید تحفظات سامنے آئے۔

    اعتراضات کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس بار 58 انتخابی افسران، DROs, ROs, اور AROs میں سے صرف 7 افسران جوڈیشری سے لیے گئے جبکہ باقی تقریباً تمام عملہ بیوروکریسی سے لیا گیا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس سے پہلے والے نوٹفکیش میں زیادہ تر عدالتی افسران تعینات کئے گئے تھے جس سے آمدہ انتخابات میں شفافیت کا تاثر ملتا تھا، کیونکہ عدالتی افسران کو نسبتاً غیر جانبدار، قانون کے پابند اور دباؤ سے آزاد سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس بیوروکریسی پر سیاسی اثر و رسوخ, سیاسی دباو اور سیاسی وفاداریاں نبھانے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے، جس سے انتخابی عمل پر سوالات اٹھتے ہیں. مگر اب کے بار کے نوٹیفکیشن میں عدالتی عملے کو تبدیل کر کے ننانوے فیصد بیوروکریسی کے افسران لگانے پر خدشات پائے جاتے ہیں آخر الیکشن کمیشن کو ایسی کیا مجبوری ان پڑی کہ نوٹیفکیشن میں 160 درجے کا U ٹرن لینا پڑا کہیں کچھ اور کچھڑی تو نہیں پک رہی یہ آگے وقت اور انتخابی نتائج بتا دیں گے.

    مزید برآں نوٹیفکیشن نمبر ELC-1(1)GBE/2025 مورخہ 13 اپریل 2026 کے تحت باقاعدہ انتخابی شیڈول جاری کیا گیا۔ اس کے مطابق 14 اپریل 2026 کو ریٹرننگ افسران پبلک نوٹس جاری کریں گے، جبکہ 16 اپریل سے 20 اپریل تک امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائیں گے۔ 21 اپریل کو ابتدائی فہرست جاری ہوگی اور اسی دن سے 28 اپریل تک سکروٹنی کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

    2 مئی اعتراضات جمع کرانے کی آخری تاریخ ہوگی جبکہ 9 مئی 2026 اپیلوں پر فیصلوں کی آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ 10 مئی کو نظرثانی شدہ فہرست، 11 مئی کو کاغذات واپس لینے کی آخری تاریخ اور 12 مئی کو انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ کے ساتھ حتمی امیدواروں کی فہرست جاری کی جائے گی۔ اس پورے عرصے میں انتخابی مہم جاری رہے گی اور بالآخر 7 جون 2026 کو پولنگ ہوگی۔ اسی طرح خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی مخصوص نشستوں کے لیے بھی سیکرٹری قانون و پراسیکیوشن رحیم گل کو ریٹرننگ آفیسر مقرر کرتے ہوئے مکمل شیڈول جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت بھی 16 اپریل سے 20 اپریل 2026 تک ترجیحی فہرستیں اور نامزدگی فارم جمع ہوں گے، 21 اپریل کو ابتدائی فہرست، 28 اپریل تک سکروٹنی، 2 مئی کو اعتراضات، 9 مئی تک فیصلے، اور 12 مئی کو حتمی فہرست جاری ہوگی، جبکہ پولنگ بھی 7 جون 2026 کو ہی ہوگی۔

    یہ اقدام بظاہر نمائندگی کے عمل کو منظم بنانے کی کوشش ہے، تاہم اصل سوال اس کے عملی نفاذ کی شفافیت سے جڑا ہوا ہے۔ ان تمام انتظامات کے باوجود زمینی سطح پر کئی خدشات گردش کر رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال ریاستی اداروں کی ممکنہ مداخلت کا ہے۔ ماضی کے تجربات کی روشنی میں یہ تاثر موجود ہے کہ وفاقی سیاسی جماعتیں، خاص طور پر برسرِ اقتدار قوتیں، مختلف ذرائع جیسے نئی ملازمتوں کے وعدے، ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات، اور سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔ اسی طرح بیوروکریسی کے بعض حربے، مقامی انتظامیہ کا کردار، اور حتیٰ کہ مساجد کے پلیٹ فارم سے اثراندازی جیسے عوامل بھی انتخابی ماحول کو متاثر کرتے ہیں۔ پاکستان کے حالیہ عام انتخابات میں فارم 45 اور فارم 47 کے تنازع نے عوامی اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے، اور یہ معاملہ تاحال حل طلب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان میں انتخابات سے پہلے ہی شفافیت اور غیر جانبداری پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    اگر ان خدشات کو دور نہ کیا گیا تو انتخابی نتائج متنازع ہو سکتے ہیں، جو نہ صرف سیاسی عدم استحکام بلکہ عوامی بے چینی (Unrest) کو بھی جنم دے سکتے ہیں اور یہ صورتحال کسی بھی صورت ریاست پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوگی۔ ایک اور اہم بحث بلدیاتی انتخابات کے وقت کے تعین سے متعلق ہے۔ عوامی سطح پر یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ اگر بلدیاتی انتخابات عام انتخابات کے ساتھ یا اس کے فوراً قریب نہ کرائے گئے تو جو بھی جماعت اقتدار میں آئے گی، وہ ماضی کی طرح بلدیاتی انتخابات کو مؤخر کر سکتی ہے۔

    دوسری طرف اگر 14 جون 2026 کو بلدیاتی انتخابات ہوتے ہیں، یعنی عام انتخابات کے ایک ہفتے بعد، تو خدشہ یہ ہے کہ اکثریتی سیٹیں لینے والی پارٹی اس عمل پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ اس تناظر میں بعض حلقے یہ رائے دیتے ہیں کہ دونوں انتخابات کو ایک ساتھ یا کم از کم بہت قریبی دنوں میں منعقد کیا جانا چاہیے تھا تاکہ اثراندازی کے امکانات کم ہوں۔ سیاسی منظرنامے میں ایک اور اہم پہلو وفاقی سطح پر حکومت سازی کے اثرات ہیں خدشہ یہ ظاہر کیا جارہا ہے وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت گلگت بلتستان کے الیکشن میں اثرانداز ہو سکتی ہے۔

    گلگت بلتستان میں طویل عرصے سے یہ تاثر موجود رہا ہے کہ “جس کی وفاق میں حکومت، اسی کی گلگت بلتستان میں حکومت”۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں اس روایت کو کچھ حد تک چیلنج کیا گیا ہے، مگر اب بھی یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ موجودہ حالات میں یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) اور گلگت بلتستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنانے کے لیے ذہن سازی کی جا رہی ہے۔ اس وقت اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کے پاس سب سے زیادہ 18 سے 20 مضبوط الیکٹبلز موجود ہیں، جو اسے ایک مضبوط پوزیشن میں لا سکتے ہیں. دوسری جانب ایک اہم سوال پاکستان تحریک انصاف کے حوالے سے بھی موجود ہے کہ کیا اسے ماضی کی طرح انتخابی نشان “بلا” سے محروم کیا جائے گا یا اسے مکمل سیاسی آزادی دی جائے گی۔

    اگر پی ٹی آئی کو انتخابی عمل میں مکمل حصہ لینے سے روکا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف انتخابی نتائج بلکہ مجموعی سیاسی استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں حالیہ کشیدگی کی وجہ سے کچھ مزہبی پارٹیوں کو بھی بہتر پوزیشن میں دیکھا جا رہا ہے. ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ گلگت بلتستان کے انتخابات 2026 محض ایک سیاسی عمل نہیں بلکہ ایک امتحان ہیں ریاستی اداروں، الیکشن کمیشن، سیاسی و مزہبی جماعتوں اور عوام سب کے لیے۔ شفاف، غیر جانبدار اور آزادانہ انتخابات ہی وہ واحد راستہ ہیں جو عوامی اعتماد کو بحال کر سکتے ہیں۔ اگر لوگوں کو اپنے ووٹ کا حق آزادانہ استعمال کرنے دیا گیا، اور نتائج حقیقی عوامی مینڈیٹ کی عکاسی کریں، تو یہ نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔

    بصورت دیگر، دھاندلی، مداخلت یا غیر شفافیت کی صورت میں پیدا ہونے والا عدم استحکام ایک بڑے بحران کو جنم دے سکتا ہے، جس کے اثرات خطے کی حساس جغرافیائی اور سیاسی حیثیت کے پیش نظر کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ آخر میں یہ امر نہایت اہم ہے کہ عام انتخابات 2026 کے ساتھ ہی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد بھی یقینی بنایا جائے تاکہ نچلی سطح پر جمہوری عمل معطل نہ رہے اور عوام کو مقامی سطح پر نمائندگی کا حق بروقت مل سکے۔ اگر بلدیاتی انتخابات کو ایک بار پھر مؤخر کیا گیا تو اس سے نہ صرف جمہوری تسلسل متاثر ہوگا بلکہ نئی بننے والی حکومت کے ذریعے اس عمل پر اثراندازی کے خدشات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسی لیے بہتر یہی ہے کہ دونوں انتخابات کو قریب ترین وقت میں اور مکمل شفافیت کے ساتھ کرایا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی مداخلت یا انجینئرنگ کا تاثر ختم ہو۔ شفاف، غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد انتخابات ہی وہ بنیاد ہیں جن پر عوامی اعتماد بحال ہو سکتا ہے اور گلگت بلتستان جیسے حساس خطے میں پائیدار سیاسی استحکام ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی، وزیراعظم شہباز شریف نے 32 روپے 12 پیسے فی لیٹر کمی کی منظوری دے دی
    Idrees
    • Website

    Related Posts

    ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی، وزیراعظم شہباز شریف نے 32 روپے 12 پیسے فی لیٹر کمی کی منظوری دے دی

    اپریل 18, 2026

    ایران کا تمام تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان: جنگ بندی معاہدے پر اہم پیش رفت

    اپریل 17, 2026

    گرفتار دہشتگرد کا انکشاف: افغان طالبان، داعش اور القاعدہ کی مبینہ معاونت، غیر ملکی ایجنسیوں کی مالی مدد کا دعویٰ

    اپریل 17, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    تازہ ترین خبریں
    خاص خبریں

    گلگت بلتستان انتخابات 2026: شفافیت کے تقاضے، خدشات اور سیاسی بساط کا فیصلہ کن مرحلہ: تحریر جی ایم ایڈووکیٹ

    اپریل 18, 2026
    خاص خبریں

    ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی، وزیراعظم شہباز شریف نے 32 روپے 12 پیسے فی لیٹر کمی کی منظوری دے دی

    اپریل 18, 2026
    بین الاقوامی

    ایران کا تمام تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان: جنگ بندی معاہدے پر اہم پیش رفت

    اپریل 17, 2026
    خاص خبریں

    گرفتار دہشتگرد کا انکشاف: افغان طالبان، داعش اور القاعدہ کی مبینہ معاونت، غیر ملکی ایجنسیوں کی مالی مدد کا دعویٰ

    اپریل 17, 2026
    • Facebook
    • YouTube
    • Twitter
    • Instagram
    نمایاں خبریں
    اپریل 15, 2024

    پنجاب بائیک سکیم: آن لائن رجسٹریشن کیسے کریں؟ مرحلہ وار گائیڈ چیک کریں

    خاص خبریں

    پنجاب حکومت نے ریجن کے طلباء کو بلاسود ماہانہ اقساط پر موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن…

    پوٹھوہار

    راولپنڈی میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ، خطرناک ملزم زخمی حالت میں گرفتار

    اپریل 17, 2026
    خاص خبریں

    گلگت بلتستان انتخابات 2026: شفافیت کے تقاضے، خدشات اور سیاسی بساط کا فیصلہ کن مرحلہ: تحریر جی ایم ایڈووکیٹ

    اپریل 18, 2026
    ایڈیٹر کا انتخاب
    خاص خبریں

    پنجاب بائیک سکیم: آن لائن رجسٹریشن کیسے کریں؟ مرحلہ وار گائیڈ چیک کریں

    اپریل 15, 2024
    خاص خبریں

    پنجاب میں 50,000 گھروں کے لیے مفت سولر پینل! کیا آپ درخواست دینے کے اہل ہیں؟ یہاں چیک کریں!

    اپریل 16, 2024
    خاص خبریں

    ایبٹ آباد میں لاپتہ لیڈی ڈاکٹر وردہ کی لاش چار دن بعد برآمد، ڈاکٹروں کا احتجاج

    دسمبر 8, 2025
    مقبول خبریں
    خاص خبریں

    گلگت بلتستان انتخابات 2026: شفافیت کے تقاضے، خدشات اور سیاسی بساط کا فیصلہ کن مرحلہ: تحریر جی ایم ایڈووکیٹ

    اپریل 18, 2026
    خاص خبریں

    ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی، وزیراعظم شہباز شریف نے 32 روپے 12 پیسے فی لیٹر کمی کی منظوری دے دی

    اپریل 18, 2026
    بین الاقوامی

    ایران کا تمام تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان: جنگ بندی معاہدے پر اہم پیش رفت

    اپریل 17, 2026

    نئے فالو اپ کے ساتھ

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

    .K2Times © 2026. All Rights Reserved

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.