اسلام آباد خود کُش دہشت گردی کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، انٹیلیجینس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پشاور اور نوشہرہ میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کی ہے جس میں خود کُش حملہ آور کے چار سہولت کار گرفتار کرلیے گئے ۔
سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ انٹیلیجینس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پشاور اور نوشہرہ میں چھاپے مارے اور گرفتاریاں کیں، آپریشنز ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلیجینس کے نتیجے میں کیے گئے ۔
سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ خود کُش حملہ آور کے 4 سہولت کار گرفتار کیے گئے، خود کُش حملے کا داعش افغانی ماسٹر مائنڈ بھی گرفتار کرلیا گیا، خود کُش حملے کا داعش افغانی ماسٹر مائنڈ بھی گرفتار کیا گیا ۔
حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان کی سرپرستی میں داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں خطے اور عالمی امن کے لئے بڑا خطرہ ہیں، آپریشن کے دوران وطن کا ایک بیٹا شہید اور تین زخمی ہوگئے ۔
ذرائع نے کہا کہ خودکش حملہ آور نے حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، حملہ آور ایک ہفتہ پہلے بھی مسجد سے ہوکر گیا، خودکش بمبار افغانستان چار مہینے رہ کر آیا، شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد بھی لی گئی ۔
ذرائع نے کہا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق خود کش بمبار نے مسجد میں گھسنے سے پہلے فائرنگ کی، فائرنگ کے بعد حملہ آور نے مسجد کے ہال میں جا کر خود کو اڑا لیا ۔
حملہ آور نے4 سے چھ کلو بارودی مواد استعمال کیا، جب کہ بال بیرنگ کی تعداد بہت زیادہ تھی، حملہ آور نے راستے میں 2 جبکہ اندر داخل ہو کر 6 گولیاں چلائیں، تمام گولیوں کو خول جائے وقوعہ سے مل گئے ۔


