Close Menu
K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    مقبول خبریں
    پولیس

    پشاور: پولیس مقابلے میں بین الصوبائی گینگ کے 4 بدنام زمانہ ڈاکو ہلاک

    اگست 31, 2026
    پنجاب

    وزیراعلیٰ مریم نوازکی زیرِ صدارت اجلاس، ٹریفک مینجمنٹ کے حوالے سے کئی اہم فیصلے

    اگست 31, 2026
    بلاگ

    مزاحمت کا مرد حر کی مفاہمتی سیاست اور نواز شریف سے اشتراک، تحریر: علی شیر

    اگست 31, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اگست 31, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    رابطہ کریں کےٹو ٹی وی
    • صفحہ اول
    • قومی خبریں
    • ہزارہ
    • پوٹھوہار
    • گلگت بلتستان
    • چترال
    • شوبز
    • دلچسپ و عجیب
    • کھیل
    • کےٹو ٹی وی
    KAY2 TV
    K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    You are at:Home»بلاگ»مزاحمت کا مرد حر کی مفاہمتی سیاست اور نواز شریف سے اشتراک، تحریر: علی شیر
    بلاگ اگست 31, 2026

    مزاحمت کا مرد حر کی مفاہمتی سیاست اور نواز شریف سے اشتراک، تحریر: علی شیر

    اگست 31, 202610 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    پاکستان کی سیاست میں بعض القابات محض سیاسی نعروں سے پیدا نہیں ہوتے، انہیں وقت، حالات اور قربانیوں کی بھٹی سے گزرنا پڑتا ہے۔ "مردِ حُر” بھی ایسا ہی ایک لقب ہے۔
    آصف علی زرداری کے لیے یہ لقب اس وقت سیاسی شناخت بنا جب ایک طویل عرصے تک جیل، مقدمات، سیاسی تنہائی اور مشکلات ان کی زندگی کا حصہ رہے۔ وہ جیل میں رہے، عدالتوں کا سامنا کیا اور پھر اسی سیاسی نظام میں واپس آئے جس نے انہیں برسوں تک قید رکھا تھا۔
    لیکن پاکستانی سیاست کا المیہ یا حسن یہ ہے کہ یہاں کل کا سیاسی حریف آج کا اتحادی بن سکتا ہے۔
    اور یہی وہ مقام ہے جہاں مردِ حُر آصف علی زرداری اور مردِ سیاست نواز شریف کی کہانی ایک دوسرے سے جڑتی ہے۔
    اور یہاں سوال یہ جنم لیتا ہیکہ دونوں کی سیاسی جدوجہد میں مزاحمت کا رنگ کتنا مختلف تھا؟
    اور اس سے بھی بڑا سوال:
    جب مزاحمت کی علامت بننے والا مردِ حُر اسی سیاسی رہنما کے ساتھ ایک صف میں کھڑا ہو جائے جسے اس کے مخالفین ماضی کی "ڈیل” اور جلاوطنی کی سیاست سے جوڑتے رہے ہیں، تو کیا مردِ حُر کی مزاحمتی سیاست کی معنویت متاثر ہوتی ہے؟
    آصف علی زرداری کی سیاسی زندگی کو سمجھنے کے لیے صرف ایوانِ صدر دیکھنا کافی نہیں۔
    ان کی کہانی کا ایک بڑا حصہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے لکھا گیا۔
    وہ ایسے وقت میں قید رہے جب ان کے سیاسی مخالفین انہیں اقتدار اور سیاسی اثرورسوخ سے ختم کرنے کی کوششوں کا الزام لگاتے تھے، جبکہ ریاستی اداروں اور مخالفین کی جانب سے ان پر مختلف سنگین الزامات بھی عائد کیے گئے۔
    لیکن سیاسی تاریخ میں ایک حقیقت اپنی جگہ موجود ہے:
    آصف علی زرداری قید ہوئے، مگر سیاست سے باہر نہیں ہوئے دوران قید انہوں نے جیل کو مکمل مزاحمتی سیاست کی تربیت گاہ بنا دیا اور اسی مزاحمتی سیاست سے ان کے لئیے مفاہمتی راستے مہیاء کئے اور یہی ان کے سیاسی کردار کی سب سے بڑی خصوصیت بن گئی ۔
    1997ء میں بھی وہ کراچی جیل میں ہوتے ہوئے سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے اور جیل ہی سے حلف اٹھانے کے لیے اسلام آباد لائے گئے۔
    یہ منظر پاکستانی سیاست کی ایک عجیب تصویر پیش کرتا ہے:
    جسم جیل میں تھا، مگر سیاست پارلیمنٹ میں موجود تھی۔
    یہی وہ مزاحمت تھی جس نے بعد میں "مردِ حُر” کے تصور کو طاقت دی۔
    اور اب آتے ہیں میاں محمد نواز شریف کی طرز سیاست، مزاحمت اور مفاہمت کی طرف کیا نواز شریف کہی سے مرد حر کے ساتھ مماثلت رکھتے تھے یا رکھتے ہیں میرے مشاہدے کیمطابق نواز شریف کی سیاسی داستان اس کے برعکس ایک مختلف راستہ دکھاتی ہے۔
    وہ اقتدار کے قریب سے سیاست میں آئے، تین مرتبہ وزیراعظم بنے، طاقت کے مراکز سے قربت بھی دیکھی اور ٹکراؤ بھی۔
    1999ء میں جنرل پرویز مشرف کی فوجی مداخلت کے بعد نواز شریف گرفتار ہوئے اور 2000ء میں سعودی عرب جلاوطن کر دیے گئے۔
    اس جلاوطنی کے معاملے میں "ڈیل” کا لفظ پاکستانی سیاسی لغت کا مستقل حصہ بن گیا۔ معاصر رپورٹس کے مطابق سعودی ثالثی کے تحت ان کی رہائی اور سعودی عرب منتقلی ہوئی، جبکہ پاکستان حکومت کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات میں طویل مدت تک ملک سے باہر رہنے کی شرط کا ذکر بھی سامنے آیا۔
    یہاں انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ نواز شریف کا اپنا مؤقف بھی موجود ہے کہ اسے محض جنرل مشرف کے ساتھ ذاتی ڈیل قرار دینا درست نہیں تھا۔
    لیکن سیاسی تاریخ میں تاثر بھی بعض اوقات حقیقت جتنا طاقتور ہو جاتا ہے۔
    اور نواز شریف کی جلاوطنی پاکستانی سیاست میں ایک ایسے تاثر کے ساتھ جڑی جس نے ان کے مخالفین کو برسوں تک یہ کہنے کا موقع دیا کہ:
    جب مشکل ترین وقت آیا تو نواز شریف ملک سے باہر چلے گئے۔
    یہیں سے "مردِ حُر” اور "مردِ سیاست” کا فرق پیدا ہوتا ہے
    زرداری اور نواز شریف دونوں نے مشکلات دیکھی ہیں۔
    دونوں نے اقتدار کھویا۔
    دونوں نے جیل دیکھی۔
    دونوں نے ریاستی طاقت کے سخت مراحل کا سامنا کیا۔
    لیکن دونوں کے سیاسی ردعمل مختلف تھے۔
    نواز شریف کی سیاست میں جلاوطنی ایک بڑا باب بنی، جبکہ زرداری کی سیاسی شناخت میں طویل قید ایک مرکزی حوالہ بن گئی۔
    یہ فرق معمولی نہیں۔
    کیونکہ سیاسی کارکن مشکلات کو صرف مشکلات نہیں سمجھتا؛ وہ انہیں اپنے رہنما کی سیاسی صداقت کا پیمانہ بھی بناتا ہے۔
    اسی لیے زرداری کے لیے "مردِ حُر” کا لقب محض ایک تعریف نہیں بلکہ ایک سیاسی بیانیہ بن گیا۔
    مگر پھر تاریخ نے دونوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا
    پاکستانی سیاست کا سب سے بڑا طنز شاید یہی ہے کہ جن جماعتوں نے ایک دوسرے کو برسوں سیاسی دشمن سمجھا، اقتدار کی ضرورت نے انہیں ایک دوسرے کا اتحادی بنا دیا۔
    پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی دشمنی پاکستانی سیاست کی کئی دہائیوں پر محیط داستان ہے۔
    مگر فروری 2024ء کے انتخابات کے بعد دونوں جماعتوں نے مرکز میں حکومت سازی کے لیے اتحاد کر لیا۔
    پیپلز پارٹی نے شہباز شریف کی وزارتِ عظمیٰ کی حمایت کی جبکہ آصف علی زرداری کو صدرِ پاکستان کے لیے اتحادی امیدوار بنایا گیا۔
    یہ محض حکومت سازی نہیں تھی۔
    یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک علامتی موڑ بھی تھا۔
    کل کے سیاسی حریف آج اقتدار کے ایک ہی بندوبست کا حصہ تھے۔
    اور یہاں سے ایک نیا سوال پیدا ہوا:
    کیا مزاحمت کی سیاست نے مفاہمت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے؟
    آصف علی زرداری کو اگر صرف مزاحمتی سیاست دان سمجھا جائے تو ان کی شخصیت کا شاید نصف حصہ ہی سامنے آتا ہے۔
    ان کی اصل سیاسی طاقت شاید مزاحمت سے بھی آگے ہے۔
    وہ مفاہمت کے سیاست دان ہیں۔
    ان کا سیاسی فلسفہ بظاہر یہ ہے کہ سیاست میں مستقل دشمن نہیں ہوتے، مستقل مفادات ہوتے ہیں۔
    یہی وجہ ہے کہ جس نواز شریف کی جماعت کبھی پیپلز پارٹی کی سب سے بڑی سیاسی حریف تھی، اسی جماعت کے ساتھ زرداری نے حکومت سازی کا راستہ اختیار کیا۔
    یہ زرداری کی سیاسی کمزوری ہے یا طاقت؟
    اس کا جواب سیاسی مورخ اپنے اپنے زاویے سے دیں گے۔
    اور میرا نکتہ نظر یہ ہیکہ آصف علی زرداری نے سیاست کو جذبات کے بجائے شطرنج کی بساط کے طور پر کھیلا۔
    اور شطرنج میں کل کا حریف آج کا مہرہ نہیں بلکہ کبھی کبھی ساتھی بھی بن سکتا ہے۔ اور میرا مشاہدہ یہ بھی کہتا ہیکہ یہاں "مردِ حُر” کے کارکن کے لیے سوال باقی رہتا ہے
    مسئلہ یہاں زرداری کی مفاہمت نہیں۔
    مسئلہ مفاہمت اور مزاحمت کے درمیان پیدا ہونے والا تضاد ہے۔
    ایک طرف وہ شخص ہے جسے جیل، مقدمات اور سیاسی انتقام کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھا گیا۔
    دوسری طرف وہی شخص ایک ایسے سیاسی خاندان کے ساتھ کھڑا ہے جس کے سیاسی سفر کا ایک اہم باب 2000ء کی جلاوطنی سے جڑا ہوا ہے۔
    تو پھر سوال بنتا ہے:
    کیا مردِ حُر کی مزاحمت ختم ہوگئی؟
    یا کیا مردِ حُر نے مزاحمت کی تعریف ہی بدل دی؟
    اور میرے تجزیہ کیمطابق دوسرا جواب زیادہ درست ہے۔
    کیونکہ زرداری کی سیاست کو دیکھا جائے تو انہوں نے مزاحمت کو سڑکوں، جلسوں اور نعروں تک محدود نہیں رکھا۔
    انہوں نے مزاحمت کو برداشت، وقت، خاموشی اور پھر سیاسی واپسی میں تبدیل کیا۔
    اور آخرکار وہ اسی نظام کے سب سے بڑے عہدے تک پہنچے جس نظام میں انہیں برسوں تک ایک ملزم اور قیدی کی حیثیت سے پیش کیا گیا۔
    آصف علی زرداری کی سیاست پاکستان کی روایتی مزاحمتی سیاست سے مختلف ہے۔
    وہ دیوار سے سر ٹکرانے کے بجائے دیوار میں دروازہ تلاش کرتے ہیں۔
    وہ سیاسی جنگ کو آخری حد تک لے جانے کے بجائے اس مقام تک پہنچتے ہیں جہاں دشمن سے بھی بات ہو سکے۔
    یہی وجہ ہے کہ زرداری کے سیاسی ناقدین انہیں مفاہمت کا بادشاہ کہتے ہیں، جبکہ ان کے حامی کہتے ہیں کہ یہی ان کی سیاسی بصیرت ہے۔
    لیکن یہاں بات پھر "مردِ حُر” کا لقب پر آتی ہے جو ہمیں ایک مختلف آصف علی زرداری دکھاتا ہے۔
    وہ زرداری جو قید میں رہا۔
    وہ زرداری جس نے سیاسی تنہائی دیکھی۔
    وہ زرداری جس نے اپنی اہلیہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پاکستان واپس آ کر پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی اور 2008ء میں صدرِ پاکستان بنے۔ یہ سفر کسی ایک سیاسی ڈیل کی پیداوار نہیں تھا۔
    یہ ایک طویل سیاسی سفر تھا۔
    اب ایسے میں اگر ہم نواز شریف اور آصف علی زرداری کی سیاسی مزاحمت کا موازنہ کریں تو یہاں مزاحمت کے دو مختلف ماڈل نظر آتے ہیں اور ایسے میں
    اگر دونوں کو ایک ہی پیمانے سے ناپا جائے تو شاید انصاف نہ ہو۔
    نواز شریف کی سیاست میں عوامی طاقت، انتخابی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ سے تصادم نمایاں رہا۔
    زرداری کی سیاست میں قید، برداشت، مفاہمت اور سیاسی جوڑ توڑ زیادہ نمایاں رہے۔
    نواز شریف جلاوطنی سے واپس آئے۔
    زرداری جیل سے نکل کر ایوانِ صدر پہنچے۔
    نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کے بعد دوبارہ سیاسی واپسی کی۔
    زرداری نے ٹکراؤ کے بجائے سیاسی مفاہمت کو زیادہ دیرپا ہتھیار بنایا۔
    دونوں کامیاب رہے۔
    لیکن دونوں کی کامیابی کے راستے مختلف تھے۔
    آصف علی زرداری کی اس طرز سیاست
    یعنی کہ نواز شریف کے ساتھ اتحاد پھر یہ سوال فراہم کرتا ہیکہ کہ اس طرز مفاہمت نے لقب "مردِ حُر” کو کمزور کیا؟
    اس سوال کو اگر سیاسی اعتبار سے دیکھو جائے تو شاید نہیں۔
    بلکہ اس نے "مردِ حُر” کے تصور کو ایک نئی جہت دی۔
    لیکن نظریاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو سوال ضرور پیدا ہوتا ہے۔
    کیونکہ جب ایک رہنما کسی مخصوص مزاحمتی بیانیے کے باعث مقبول ہوتا ہے اور پھر اسی سیاسی قوت کے ساتھ اقتدار میں شریک ہو جاتا ہے جسے کبھی حریف سمجھا جاتا تھا، تو اس کے کارکنوں کے ذہن میں سوال اٹھنا فطری ہے۔
    یہ سوال صرف آصف علی زرداری سے نہیں۔
    یہ سوال پاکستان کی پوری سیاست سے ہے: کیا "اصول” اقتدار سے بڑے ہیں، یا اقتدار تک پہنچنے کے لیے اصولوں کی نئی تعبیر ضروری ہے؟
    آصف علی زرداری کا سیاسی جواب شاید یہ ہوگا انہوں نے متعدد بار یہ کہا کہ سیاست میں اصول اپنی جگہ، لیکن ریاست اور جمہوریت کو بچانے کے لیے مفاہمت بھی ضروری ہے۔اس جواب کے بعد ان کے ناقدین نے یہ کہنا شروع کردیا کہ یہ مزاحمت نہیں، اقتدار کی سیاست ہے۔ جبکہ ان کے حامیوں کی جانب سے جوابا یہ مئوقف سامنے آیا کہ
    اصل مزاحمت یہی ہے کہ آپ کو مٹانے والے بھی ایک دن آپ کے ساتھ بیٹھنے پر مجبور ہو جائیں۔
    اور یہی وہ مقام ہے جہاں "مردِ حُر” آصف علی زرداری کی سیاست دوسروں سے الگ ہو جاتی ہے۔
    خلاصہ یہ ہیکہ مردِ حُر ہارا نہیں، بدل گیا
    پاکستانی سیاست میں آصف علی زرداری کو سمجھنے کے لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ وہ آج کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔
    یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وہ وہاں تک کیسے پہنچے۔
    جس شخص نے جیل دیکھی، وہی شخص مفاہمت کی میز تک پہنچا۔
    جس شخص نے سیاسی تنہائی برداشت کی، وہی شخص بعد میں اپنے سیاسی حریفوں کے ساتھ اقتدار بانٹنے پر آمادہ ہوا کیونکہ وہ سیاسی معاملات سے ریاستی معاملات کو بالاتر سمجھتا ہے
    آصف علی زرداری نے مزاحمت کو اقتدار کا دشمن نہیں بننے دیا؛ انہوں نے مزاحمت کو مفاہمت تک پہنچنے کا راستہ بنا دیا۔
    اور نواز شریف؟
    وہ بھی جلاوطنی، واپسی، اقتدار، عدالتی فیصلوں اور دوبارہ سیاسی میدان میں آنے کے سفر سے گزرے۔
    لہٰذا دونوں کو صرف "مزاحمتی” اور "غیر مزاحمتی” کے خانوں میں تقسیم کرنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
    مگر ایک فرق پھر بھی باقی رہتا ہے۔
    نواز شریف کی سیاست نے ثابت کیا کہ جلاوطنی کے بعد بھی واپسی ممکن ہے۔
    جبکہ آصف علی زرداری کی سیاست نے ثابت کیا کہ طویل قید کے بعد بھی اقتدار تک پہنچا جا سکتا ہے۔
    اور شاید اسی لیے "مردِ حُر” کا لقب آج بھی ان کی سیاسی شناخت کا سب سے طاقتور حوالہ ہے۔
    البتہ تاریخ کا فیصلہ شاید آنے والی نسلیں کریں گی کہ:
    مردِ حُر نے مزاحمت چھوڑ دی تھی۔۔۔
    یا اس نے مزاحمت کو اتنا بدل دیا کہ دشمن بھی ایک دن اس کا اتحادی بن گیا؟

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleوزیراعظم شہباز شریف تین روزہ دورے پر بشکیک پہنچ گئے، ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے
    Next Article وزیراعلیٰ مریم نوازکی زیرِ صدارت اجلاس، ٹریفک مینجمنٹ کے حوالے سے کئی اہم فیصلے
    Idrees
    • Website

    Related Posts

    محفوظ بچپن، محفوظ گلگت بلتستان, تحریر: علی شیر

    اگست 17, 2026

    کیا بلدیاتی انتخابات کا انعقاد جماعتی بنیاد پر کرانا آئینی عمل ہے !!!! تحریر علی شیر

    جون 16, 2026

    عالمی طاقت کا نیا منظرنامہ: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    اپریل 20, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    تازہ ترین خبریں
    پولیس

    پشاور: پولیس مقابلے میں بین الصوبائی گینگ کے 4 بدنام زمانہ ڈاکو ہلاک

    اگست 31, 2026
    پنجاب

    وزیراعلیٰ مریم نوازکی زیرِ صدارت اجلاس، ٹریفک مینجمنٹ کے حوالے سے کئی اہم فیصلے

    اگست 31, 2026
    باہمی تعاون

    وزیراعظم شہباز شریف تین روزہ دورے پر بشکیک پہنچ گئے، ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے

    اگست 31, 2026
    خاص خبریں

    پاکستان، سعودی عرب اور ترک حکام درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے روڈ میپ کیلئے استنبول میں ہہلا اجلاس

    اگست 31, 2026
    • Facebook
    • YouTube
    • Twitter
    • Instagram
    نمایاں خبریں
    اگست 25, 2026

    دیامر کی نیاٹ ویلی میں گلیشیئر میں خطرناک دراڑیں، مقامی آبادی کو خطرہ

    خاص خبریں

    دیامر: گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کی نیاٹ ویلی کے علاقے کرلیوگاہ میں گلیشیئر میں…

    پنجاب

    راولپنڈی میں گاڑی سے بھاری مقدار میں بارودی مواد برآمد، 3 ملزمان گرفتار

    اگست 20, 2026
    خاص خبریں

    خیبرپختونخوا میں رواں سال ڈینگی کے 478 کیسز کی تصدیق، پشاور سب سے زیادہ متاثر

    اگست 29, 2026
    ایڈیٹر کا انتخاب
    خاص خبریں

    پنجاب بائیک سکیم: آن لائن رجسٹریشن کیسے کریں؟ مرحلہ وار گائیڈ چیک کریں

    اپریل 15, 2024
    خاص خبریں

    پنجاب میں 50,000 گھروں کے لیے مفت سولر پینل! کیا آپ درخواست دینے کے اہل ہیں؟ یہاں چیک کریں!

    اپریل 16, 2024
    خاص خبریں

    ایبٹ آباد میں لاپتہ لیڈی ڈاکٹر وردہ کی لاش چار دن بعد برآمد، ڈاکٹروں کا احتجاج

    دسمبر 8, 2025
    مقبول خبریں
    پولیس

    پشاور: پولیس مقابلے میں بین الصوبائی گینگ کے 4 بدنام زمانہ ڈاکو ہلاک

    اگست 31, 2026
    پنجاب

    وزیراعلیٰ مریم نوازکی زیرِ صدارت اجلاس، ٹریفک مینجمنٹ کے حوالے سے کئی اہم فیصلے

    اگست 31, 2026
    باہمی تعاون

    وزیراعظم شہباز شریف تین روزہ دورے پر بشکیک پہنچ گئے، ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے

    اگست 31, 2026

    نئے فالو اپ کے ساتھ

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

    .K2Times © 2026. All Rights Reserved

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.