لاہور: وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر پنجاب میں سموگ کے تدارک کے لیے سمارٹ فیلڈ انفورسمنٹ، مانیٹرنگ اور ڈیجیٹل و ڈرون سرویلنس سسٹم کے تحت کارروائیاں جاری ہیں۔
ای پی اے پنجاب نے انسدادِ سموگ کے حوالے سے سال 2025-26 کے تازہ اعدادوشمار پر مبنی تقابلی ڈیٹا جاری کردیا۔
رواں سال ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزیوں پر 30 کروڑ 51 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 66 فیصد زیادہ ہیں۔
ماحولیاتی آلودگی کے خلاف 5 ہزار 461 مقامات سیل کیے گئے۔
اینٹوں کے بھٹوں اور صنعتی یونٹس کی ایک لاکھ ایک ہزار 159 انسپیکشنز مکمل کی گئیں۔
پنجاب بھر میں میرج ہالز، بینکوئٹ ہالز اور مارکیز کے خلاف بھی سخت ایکشن جاری ہے۔
سکشن ہُڈ کی تنصیب کے لیے دی گئی مہلت ختم ہوگئی ہے اور مزید رعایت نہیں دی جائے گی۔
سکشن ہُڈ کے بغیر میرج ہالز کو بند یا سیل کرنے کے ساتھ بھاری جرمانے ہوں گے، جبکہ غیر مؤثر ہُڈ بھی قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
ای پی اے ٹیمیں موقع پر سکشن ہُڈ سسٹم کی فعالیت چیک کریں گی۔
کمرشل کچنز سے دھویں اور آلودگی کے اخراج کی روک تھام کے لیے میرج ہالز، بینکوئٹ ہالز اور مارکیز کو مؤثر سکشن ہُڈ سسٹم یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سکشن ہُڈز کی تنصیب کے لیے 4 ہزار 256 مقامات کے دورے کیے گئے، ایک ہزار 163 ہُڈز نصب جبکہ 820 مقامات سیل کیے گئے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر فیصل آباد ڈویژن سمیت پنجاب بھر میں دھان کی باقیات جلانے کی روک تھام اور گندم کی بروقت کاشت کے لیے جامع ایکشن پلان پر عملدرآمد جاری ہے۔
فیصل آباد ڈویژن میں ایک ہزار 207 سپر سیڈرز دستیاب ہیں، جبکہ رائس بیلٹ کی 68 فیصد اور ویٹ بیلٹ کی 41 فیصد یونین کونسلز میں مشینری کی سہولت موجود ہے۔
سپر سیڈرز رکھنے والے کسانوں کو مشینری سے محروم کسانوں سے منسلک کرنے کی حکمت عملی پر عملدرآمد جاری ہے۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ کسان اور شہری ہرگز فصل اور کوڑے کو آگ لگا کر ماحول خراب نہ کریں اور سموگ کے خلاف جنگ میں حکومت کا ساتھ دیں۔


