چترال کے علاقے اراندیو کے جنگلاتی علاقےمیں ایک سنگین ماحولیاتی اسکینڈل سامنے آیا ہے، جہاں مبینہ طور پر بدنام زمانہ ٹمبرمافیا نے 6,821 دیودار کے درخت کاٹ ڈالے ہیں۔
اتنی بڑی تعداد میں درختوں کی کٹائی سے صوبہ خیبر پختونخوا کے گھنے ترین جنگلاتی ذخائر میں سے ایک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔
ذرائع کے مطابق غیر قانونی کٹائی کے حوالے سے ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ان درختوں سے نکالی گئی لکڑی کا حجم تقریباً 13 لاکھ 56 ہزارمکعب فٹ تک ہے۔
دیودار ایک تاریخی اور اہم درخت ہے جو پاکستان کا قومی درخت بھی ہے۔ اس کے پتے اور شاخیں سدا بہار اور مستقل مزاجی کی علامت ہیں۔
اس درخت کی مضبوطی اور پائیداری بے مثال ہے۔ اس کی لکڑی صدیاں گزرنے کے بعد بھی خراب نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ قدیم عمارتوں اور مندروں کی تعمیر میں اس کا استعمال کیا جاتا تھا۔
اس کی لکڑی مضبوطی کے ساتھ اپنی منفرد خوشبو کی وجہ سے بہت قیمتی ہے اور عالمی مارکیٹ میں اس کے تختوں کی قیمت سینکڑوں ڈالر بھی ہو سکتی ہے


