اسلام آباد میں امام بارگاہ خودکش دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، حملہ آور کے گھر پر پشاور میں چھاپے کے دوران دہشتگرد کے تین قریبی رشتہ داروں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔
پولیس ذرائع کے مطابق پشاور میں حملہ آور کے گھر پر چھاپہ مارا گیا جہاں کارروائی کے دوران اس کے دو بھائیوں اور ایک خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے خودکش بمبار کا شناختی کارڈ بھی برآمد ہوا جس کی بنیاد پر حملہ آور کی شناخت یاسر کے نام سے ہوئی ہے۔ شناختی کارڈ کے مطابق اس کا مستقل پتہ عباس کالونی، شیروجنگی چارسدہ روڈ پشاور درج ہے جبکہ موجودہ پتہ گنج محلہ قاضیان پشاور بتایا گیا ہے ۔
حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خودکش حملہ آور گزشتہ پانچ ماہ تک افغانستان میں مقیم رہا جہاں اس نے اسلحہ چلانے اور خودکش حملوں کی باقاعدہ تربیت حاصل کی ۔
تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے جبکہ حملے کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور ممکنہ روابط کے حوالے سے بھی تحقیقات کی جارہی ہیں ۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ اور مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں جمعہ کی نماز کے دوران خودکش دھماکے میں 32 نمازی شہید اور 162 افراد زخمی ہوگئے ہیں، جن میں سے 27 کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے ۔


