اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی حکومت کے حجم میں کمی رائٹ سائزنگ اور حکومتی استعدادِ کار بڑھانے سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور بہتر تربیت سے سرکاری اداروں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ غیر ضروری آسامیوں اور عہدوں کا خاتمہ اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ رائٹ سائزنگ کے اقدامات کے تحت یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن، پاک پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو بند کیے جا چکے ہیں جن سے قومی خزانے کو بچت ہو رہی ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ رائٹ سائزنگ کے تحت ختم کی گئی آسامیوں اور اداروں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ رائٹ سائزنگ کمیٹی اپنی باقی ماندہ سفارشات ایک ماہ میں مکمل کرے۔
انہوں نے حکومت کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے رائٹ سائزنگ کے حوالے سے اقدامات پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں رائٹ سائزنگ کمیٹی کی جانب سے رائٹ سائزنگ کے حوالے سے اقدامات کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ رائٹ سائزنگ اقدامات سے سول حکومت کے اخراجات کا جی ڈی پی میں تناسب کم ہوا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ مختلف وزارتوں اور سرکاری محکموں میں خالی آسامیوں کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ایس او ایز (SOES) اور خود مختار اداروں کی رائٹ سائزنگ کے حوالے سے تجاویز مرتب کی جا رہی ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ کی نجکاری ہو چکی ہے اور متعدد سرکاری ملکیتی اداروں کی نجکاری کے حوالے سے اقدامات لیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احسن اقبال، محمد اورنگزیب، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔


