امریکہ میں افغان پناہ گزینوں کو درپیش مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ افغان مہاجرین کی مدد کرنے والے ایک امریکی فاؤنڈیشن کے عہدیداروں کے مطابق قطر میں مقیم افغان پناہ گزینوں کو کانگو منتقل ہونے یا اپنے ملک واپس جانے کی ہدایت دی گئی ہے، جس پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
امریکی سینیٹر اینڈی کم نے حکومت کے اس فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ظالمانہ اور شرمناک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات نہ صرف غیر انسانی ہیں بلکہ امریکہ کے وعدوں کے بھی خلاف ہیں۔
دوسری جانب امریکی کانگریس کے رکن آمی بیرا نے بھی افغان مہاجرین کو قطر سے کانگو منتقل کرنے کے منصوبے کو “بڑی غداری” قرار دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ افغان پناہ گزینوں سے کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں اور انہیں غیر یقینی صورتحال میں نہ دھکیلا جائے۔
عالمی تنظیموں نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر افغان پناہ گزین کانگو منتقلی سے انکار کرتے ہیں تو یہ امریکہ کے لیے ایک بہانہ بن سکتا ہے کہ وہ بعد میں انہیں افغانستان واپس بھیج دے، جہاں ان کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے انسانی اور سیاسی اثرات نہایت سنگین ہو سکتے ہیں، اور اس سے عالمی سطح پر مہاجرین کے حقوق کے حوالے سے نئی بحث چھڑنے کا امکان ہے۔


