جنوبی وزیرستان: انگور اڈا میں افغان طالبان کی جانب سے 26 اور 29 اپریل کو بلااشتعال گولہ باری کے واقعات پر قبائلی عوام کا ردعمل سامنے آ گیا ۔
ان حملوں میں سول آبادی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں دو مرد، تین خواتین اور چار بچے شدید زخمی ہوئے، جب کہ شہری املاک کو بھی نقصان پہنچا۔ زخمیوں کو ڈی ایچ کیو وانا اور سی ایم ایچ پشاور منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
اہلِ علاقہ نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پار سے ہونے والی گولہ باری میں نہتے شہریوں، خصوصاً بچوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے علاقے میں خوف و ہراس اور بے چینی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔
قبائلی عمائدین نے واضح کیا کہ وہ کسی صورت مرعوب نہیں ہوں گے اور ہر محاذ پر ڈٹ کر افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور ہر قسم کی افغان جارحیت کا مقابلہ کریں گے۔متاثرہ افراد کے ورثاء اور علاقائی عمائدین نے بروقت اور بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے پر افواج پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔


