پشاور ہائیکورٹ نے ہلاک اشتہاری ملزم ممتاز کی لاش اس کے ورثا کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے حکم دیا کہ قبر کھودنے کے دوران پولیس کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ کرے، اور ہسپتال انتظامیہ لاش دینے کے عمل کی ویڈیو بنا کر اپنے پاس محفوظ رکھے ۔
پشاور: سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی سوال کیا کہ ممتاز کو اسلام آباد سے کون لایا تھا اور اس وقت لاش کس کے پاس ہے؟
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل عبدالرؤف نے عدالت کو بتایا کہ پولیس لاش دینے کے لیے تیار ہے اور یہ صرف اصل وارثوں کو ہی دی جائے گی ۔
اس سے قبل پشاور کے ناردرن بائی پاس پر پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا، پولیس کے مطابق، جب ملزم ممتاز کو اسلام آباد سے پشاور منتقل کیا جا رہا تھا تو پولیس اہلکاروں پر دستی بم سے حملہ کیا گیا تھا ۔
اس حملے میں دو اہلکار اور ملزم ممتاز زخمی ہوئے تھے اور پولیس کی جوابی کارروائی کے دوران دو حملہ آور مارے گئے تھے جبکہ زخمی ملزم ممتاز بھی بعد میں ہسپتال میں دم توڑ گیا تھا، یاد رہے کہ ملزم ممتاز کو اس سے پہلے انٹرپول کے ذریعے بحرین سے پاکستان لایا گیا تھا ۔


