ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں ایک بار پھر اسلام آباد میں اگلے ہفتے دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے، امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مذاکرات کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور ممکنہ جنگ کے خطرے کو ٹالنا ہے ۔
نیویارک: امریکی موقر اخبار دی وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میں بحال ہو سکتے ہیں جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور ممکنہ جنگ کے خطرے کو ٹالنا ہے ۔
وال سٹریٹ جنرل کے مطابق معاملے سے واقف ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران دونوں ثالثی کردار ادا کرنے والوں کے ساتھ مل کر ایک ایک صفحے پر مشتمل 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر کام کر رہے ہیں، اس معاہدے کے تحت ایک ماہ پر محیط مذاکراتی فریم ورک طے کیا جائے گا ۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کئی اہم نکات اب بھی حل طلب ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کی حد ہے جو مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے ۔
امریکی اخبار کے مطابق اگر بات چیت میں پیش رفت ہوتی ہے تو دونوں فریقین کی باہمی رضامندی سے ابتدائی ایک ماہ کے مذاکراتی فریم ورک میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے ۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ایران اور امریکہ کے درمیان اس سلسلے میں پہلا دور 11 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ہوا تھا جس میں کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا تھا ۔


