نیویارک: پاکستانی قونصلر صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ پاکستان بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی قیمت سے بخوبی واقف ہے۔
بھارتی دہشت گردی کا دائرہ علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکا ہے۔
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان پر پاکستان کے حق جواب میں صائمہ سلیم نے خطاب کیا۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت نے گمراہ کن اطلاعات کو سفارت کاری کا ذریعہ بنانے کے ساتھ دہشت گردی کو پالیسی آلۂ کار کے طور پر برآمد کیا ہے۔
علاقائی بالادستی کو اپنی حکمتِ عملی جبکہ اسلاموفوبیا کو معمول کا حصہ بنا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت دہشت گردی اور تشدد برآمد کرتا ہے اور خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں اور قربانیوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔
بھارت کی دہشت گردوں کی مالی معاونت، اعانت اور سرپرستی کے وسیع شواہد موجود ہیں۔
جموں و کشمیر کے حوالے سے صائمہ سلیم نے کہا کہ یہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔
جموں و کشمیر نہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اور نہ کبھی ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدام بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے ہندوتوا نظریے کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی ہے۔
بھارت میں مسلمانوں کا غلط تصور پیش کیا جاتا ہے، عیسائیوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
دلتوں کو غیر انسانی سلوک کا سامنا ہے، جبکہ سکھوں کو بھی سیاسی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھ کر بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کو نظرانداز کر رہا ہے۔
پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کے لیے زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔


