بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ شدید آبی بحران کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔
زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل خطرناک حد تک نیچے جا رہی ہے، واسا کی فراہمی کئی علاقوں میں مکمل طور پر بند یا انتہائی محدود ہو چکی ہے.
ٹینکر مافیا شہریوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے من مانے نرخ وصول کر رہا ہے۔
شدید گرمی میں شہر کے مختلف علاقوں سمنگلی روڈ، جناح ٹاؤن، سریاب، قمبرانی روڈ، سرکی روڈ، رحمت کالونی، بینک کالونی سیٹلائٹ ٹاؤن، سبزل روڈ سمیت دیگر رہائشی آبادیوں میں بزرگ، خواتین اور کمسن بچے میلوں دور سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔
کئی گھروں میں گزشتہ چھ ماہ سے نلکوں میں پانی نہیں آیا، جس کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو چکے ہیں.
شہریوں نے کہا کہ وہ باقاعدگی سے واسا کے بل ادا کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں پانی فراہم نہیں کیا جا رہا۔
متعدد بار شکایات درج کرانے کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہوا اور متعلقہ حکام صرف یقین دہانیوں تک محدود ہیں واسا کی سپلائی متاثر ہونے کے بعد شہریوں کی واحد امید نجی ٹینکر بن چکے ہیں۔
شہر بھر میں فی ٹینکر تین سے چار ہزار روپے جبکہ بعض علاقوں میں پانچ ہزار سے 7 ہزار روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ نہ کوئی سرکاری ریٹ لسٹ موجود ہے اور نہ ہی قیمتوں کی نگرانی کرنے والا کوئی مؤثر نظام۔
شہریوں نے ایک اور سنگین سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ واسا کے بڑے بڑے ذخیرہ آب ٹینکیوں میں پانی کا ایک قطرہ بھی موجود نہیں۔
واسا کے پاس شہریوں کو فراہم کرنے کے لیے پانی نہیں، لیکن ٹینکر مافیا کے پاس وافر مقدار میں پانی موجود ہے، جو واسا کی کارکردگی اور نگرانی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔


