لاہور: موسمیاتی تبدیلی، کم ہوتی بارشوں اور زیرِ زمین پانی کی تیزی سے گرتی سطح کے پیش نظر پنجاب حکومت نے 2030 تک بارش کے پانی کے ذخیرے، زیرِ زمین پانی کی ری چارجنگ اور پانی کے مؤثر استعمال کے اہداف مقرر کیے ہیں.
کلائمیٹ ریزیلینٹ پنجاب وژن اینڈ ایکشن پلان 2024 کے مطابق بڑھتے درجہ حرارت، بے ترتیب بارشوں، شہری آبادی میں اضافے اور زیرِ زمین پانی کے بے دریغ استعمال کے باعث پنجاب میں آبی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔
منصوبے کے تحت بارش کے پانی کو محفوظ بنانے، ری چارج سسٹم نصب کرنے، سیلابی پانی کے بہتر انتظام اور زیرِ زمین پانی کی بحالی کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق لاہور اس بحران کی نمایاں مثال بن چکا ہے جہاں مختلف مطالعات کے مطابق زیرِ زمین پانی کی سطح سالانہ تقریباً ایک میٹر تک گر رہی ہے۔
گلبرگ، شادمان اور مسلم ٹاؤن سمیت کئی علاقے زیادہ خطرے والے زون قرار دیے جا چکے ہیں۔
واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) لاہور نے بارش کے پانی کو خصوصی کنوؤں کے ذریعے دوبارہ زیرِ زمین پہنچانے کا منصوبہ شروع کر رکھا ہے۔
واسا کے ترجمان کے مطابق تاجپورہ، لبرٹی، قذافی اسٹیڈیم اور دیگر مقامات پر ری چارج ویلز نصب کیے جا چکے ہیں جبکہ منصوبے کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔
پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں 358 زیرِ زمین واٹر ٹینکس کی منظوری بھی دی ہے جن میں 34 بڑے اور 324 سڑک کنارے ٹینک شامل ہیں۔
ان کے ساتھ ری چارج ویلز بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر بنائی جا سکے۔
پنجاب کلائمیٹ ریزیلینٹ واش سیکٹر ڈویلپمنٹ پلان 2025-35 میں کہا گیا ہے کہ موجودہ آبی نظام موسمیاتی دباؤ کا مؤثر مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
رپورٹ کے مطابق 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، جدید آبی انفراسٹرکچر اور مقامی حکومتوں کی استعداد کار میں اضافہ ضروری ہے۔
ڈائریکٹر جنرل ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) پنجاب عمران حمید شیخ نے بتایا کہ حکومت نے 23 نئے سیکٹرز میں بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے نظام کو لازمی قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق صنعتی اداروں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں، ہوٹلوں، شادی ہالوں، تعلیمی اداروں اور تجارتی عمارتوں کے لیے رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم کی تنصیب کو تعمیراتی منظوری سے مشروط کر دیا گیا ہے۔


