گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ہماری اولین ترجیح ہے، عوام کا اعتماد بحال کیے بغیر کامیابی ممکن نہیں، شکست کا تصور ذہن سے نکالنا ہوگا، پشاور میں سیکیورٹی اجلاس سے خطاب میں گورنر کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں، یہ ہماری پہلی ترجیح ہے، عوام کا اعتماد بحال کرنا ہوگا، کیونکہ جب لوگ ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو کامیابی کا راستہ ہموار ہوگا ۔
پشاور: سیکیورٹی اجلاس کے بعد مشیر امورِ داخلہ و قبائلی علاقہ جات اور سیکریٹری داخلہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے ماضی میں یہ بیانیہ پھیلایا جاتا رہا کہ یہ ہماری نہیں بلکہ کسی دوسرے ملک کی جنگ ہے،ایسے تصورات نے عوام میں بداعتمادی پیدا کی، جسے ختم کرنا ضروری ہے ۔
انہوں نے کہا کہ 2008 میں جب صوبے میں حکومت قائم ہوئی تو خیبر پختونخوا بارود، خودکش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کی زد میں تھا، حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ شدت پسند کسی بھی وقت سوات پر قبضہ کرسکتے تھے،بعد ازاں آپریشن کے ذریعے علاقے کو دہشتگردوں سے پاک کیا گیا، جبکہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو دوبارہ اپنے گھروں میں آباد کیا گیا، اس عمل میں عوام نے بھرپور تعاون کیا ۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں، یہ ہماری پہلی ترجیح ہے، عوام کا اعتماد بحال کرنا ہوگا، کیونکہ جب لوگ ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو کامیابی کا راستہ ہموار ہوگا ۔
انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پولیس کا کردار انتہائی اہم ہے، ہر علاقے کے ایس ایچ او اور مقامی عمائدین کے درمیان براہ راست رابطہ ہوتا ہے، اس لیے پولیس عوام کے ساتھ روابط مضبوط بنانے اور ان کا اعتماد حاصل کرنے میں بنیادی کردار ادا کرسکتی ہے ۔
گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کے بغیر ترقی ممکن نہیں، شہریوں کو یقین ہونا چاہیے کہ ان کے بچے سکول، کالج اور کھیل کے میدانوں میں جائیں تو محفوظ واپس آئیں گے، اسی طرح کاروبار اور ملازمت کے لیے جانے والے افراد بھی خیریت سے گھروں کو لوٹیں گے ۔
انہوں نے خیبر پختونخوا کے نوجوانوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا ۔
فیصل کریم کنڈی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم ایسے موڑ پر پہنچ چکے ہیں جہاں واپسی کی گنجائش نہیں اور شکست کو اپنی لغت سے نکالنا ہوگا۔ پاکستان کی تاریخ میں ہمارا ذکر اچھے الفاظ میں ہو، اس کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔
قبل ازیں گورنر ہاؤس پشاور میں خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی کی صورتحال پر خصوصی بریفنگ کا انعقاد کيا گیا، گورنر فیصل کریم کنڈی، صوبائی ایڈوائزرز اعلیٰ سول افسران اور میڈیا کے نمائندنگان نے شرکت کی ۔
بریفنگ کے بعد سوال و جواب کی نسشت ہوئی جس میں ایڈوائزر ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز کفایت اللہ خان، سیکریٹری ہوم امجد علی خان ، پولیس اعلی حکام اور گورنر بھی شامل تھے، بریفنگ میں خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتحال کے اہم مسائل کیجانب نشان دہی کی گئی جب کہ مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ حکومت کی جانب سے ضم شدہ اضلاع کے لیے کل سیکیورٹی بجٹ کا صرف 3.2 فیصد مختص کیا گیا تھا ، جبکہ پولیس میں 10,587 اور سی ٹی ڈی میں 638 اہلکاروں کی شدید کمی کا سامنا ہے ۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا پولیس کو 36 فیصد آپریشنل ٹرانسپورٹ کی کمی ہے اور صرف 12 فیصد فورس کو اینٹی ڈرون سسٹم میسر ہے،15,186 خاصہ دار اہل کار پولیس میں ضم ہوئے تھے جن میں اکثریت ناخواندہ ہے ۔
حکام نے بتایا کہ انسدادِ دہشت گردی انفراسٹرکچر کی بحالی میں فنڈز کا التوا؛ منظور شدہ 6.4 ارب روپے میں سے صرف 1 ارب روپے جاری کیے جا سکے،2024 سے ستمبر 2026 تک سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کی بھاری قربانیاں؛ مسلح افواج کے 1,003، پولیس کے 627 اہلکار اور 808 شہری شہید ہو چکے ہیں ۔


