خیبرپختونخوا اسمبلی نے پبلک سروس کمیشن ترمیمی بل 2026 منظور کر لیا ، بل کے بعد پبلک سروس کمیشن سے متعلق گورنر کے تمام اختیارات وزیرِ اعلیٰ کو منتقل کر دیے گئے ۔
پشاور: نئے قانون کے مطابق جہاں بھی قانون میں "گورنر” کا لفظ درج تھا، اب اس کی جگہ "وزیر اعلیٰ” لکھا جائے گا، اسی طرح پہلے پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین اور اراکین کی تقرری گورنر کے مشورے سے ہوتی تھی، لیکن اب یہ تقرری وزیرِ اعلیٰ کے مشورے سے ہوگی ۔
ترمیمی بل کے تحت پبلک سروس کمیشن کے تمام اختیارات گورنر سے لے کر وزیرِ اعلیٰ کو دے دیے گئے ہیں، اس کے علاوہ کمیشن اپنی سالانہ رپورٹ بھی اب گورنر کے بجائے وزیرِ اعلیٰ کو پیش کرے گا ۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں ڈرون حملوں، بس حادثے اور دیگر واقعات میں جاں بحق افراد کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی ۔
اسمبلی نے لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل اور کیلاش مرج ترمیمی بل بھی منظور کر لیے، جبکہ مختلف عوامی مسائل سے متعلق کئی قراردادیں بھی منظور کی گئیں ۔
اجلاس کے دوران ارکانِ اسمبلی نے بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر شدید تشویش کا اظہار کیا، ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا بجلی پیدا کرنے والا اہم صوبہ ہونے کے باوجود طویل لوڈشیڈنگ کا شکار ہے، ارکان نے اس معاملے پر وضاحت کے لیے پیسکو کے چیف ایگزیکٹیو کو اسمبلی میں طلب کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔
اس کے علاوہ اجلاس میں ملاکنڈ ڈویژن اور ضم شدہ اضلاع میں ٹیکس نافذ کرنے کا فیصلہ واپس لینے اور وادی تیراہ کے متاثرین کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا گیا ۔


