پاکستان میں تعينات ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ مذاکراتی عمل میں پاکستان کا کردار قابل ستائش ہے، ایران نے پاکستان کے ذریعے نیا مذاکراتی منصوبہ امریکہ تک پہنچا دیا ہے، مذاکرات میں پیشرفت کا دارومدار امریکی رویے پر ہے ۔
اسلام آباد: پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری نے کہا کہ مذاکرات میں پیشرفت امریکی رویے کی تبدیلی سے مشروط ہے، ایران اپنے مؤقف اور مطالبات میں شفاف ہے، اگر امریکہ سنجیدہ ہے تو اسے اپنا رویہ بدلنا ہوگا ۔
انہوں نے کہا کہ ایران قومی مفادات اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، جنگ کے خاتمے کے لیے نیا مذاکراتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچا دیا گیا ہے، موجودہ عمل میں پاکستان مرکزی ثالث ہے اور اس کی کوششیں قابلِ قدر ہیں، پاکستان بدستور ثالث ہے، اس میں تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ عالمی برادری ایران کا واضح اور منطقی مؤقف دیکھ رہی ہے، امریکہ کا رویہ غیرمستحکم ہے، ایران سفارتکاری کے راستے پر قائم ہے مگر پیشرفت کا دارومدار امریکہ پر ہے، امریکہ کو جارحانہ رویہ ترک کرکے ایران کے حقوق کا احترام کرنا ہوگا ۔
رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور تجارتی روابط میں اضافہ جاری ہے، پاکستان خطے میں تجارتی راستوں کے تنوع اور ایران کے ساتھ تعاون کا خواہاں ہے، میرجاوہ، تفتان اور گبد ریمدان بارڈر کراسنگ پاک ایران تجارت کے لیے اہم ہیں ۔


