کوئٹہ: بلیلی روڈ کچلاک بائی پاس پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں نجی ہوٹل کے مالک اور ممتاز تاجر محمد ہاشم نورزئی جاں بحق ہوگئے۔
پولیس کے مطابق واقعہ ہفتے کی علی الصبح تھانہ کچلاک کی حدود میں عثمانیہ ہوٹل کے قریب پیش آیا۔
محمد ہاشم نورزئی، جو وزیر آباد کچلاک کے رہائشی تھے، اپنی ذاتی گاڑی میں گھر سے شہر کی جانب جا رہے تھے کہ راستے میں موٹر سائیکل پر سوار 3 سے 4 نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
فائرنگ کے نتیجے میں محمد ہاشم نورزئی موقع پر ہی شدید زخمی ہوگئے جبکہ حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
پولیس کے مطابق مقتول کی گاڑی پر متعدد گولیوں کے نشانات پائے گئے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولیس واقعے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد جائے وقوع پر پہنچی جبکہ اس دوران محمد ہاشم نورزئی دم توڑ چکے تھے۔
ان کی لاش ان کے ایک دوست نے سول اسپتال منتقل کی، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق محمد ہاشم نورزئی کو 3 گولیاں لگیں، جن میں ایک سر اور 2 بازووٴں پر لگیں۔ سر پر لگنے والی گولی جان لیوا ثابت ہوئی۔
پولیس ترجمان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور مختلف پہلووٴں سے تحقیقات جاری ہیں۔
سی سی ٹی وی فوٹیجز، عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر شواہد کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔


