اسلام آباد: اسلامی ممالک کی جانب سے سعودی عرب،پاکستان اور ترکیہ کےدرمیان مکہ دفاعی معاہدے کا بھرپورخیرمقدم کیا جارہا ہے۔
دفاعی معاہدے پر ترک صدر طیب اردوان کا کہنا تھا کہ اجتماعی دفاع پر مبنی یہ معاہدہ سکیورٹی اور دفاعی صنعت کے مشترکہ منصوبوں کو مضبوط کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، امن و استحکام کے خواہاں تمام برادر ممالک کے لیے کھلا ہے۔
دعا گو ہوں کہ یہ معاہدہ ہمارے پورے خطے کے لیے خیر، برکت، امن اور استحکام کا ذریعہ بنے۔
سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے بھی مکہ دفاعی معاہدے پر تہنیتی جاری پیغام میں کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ تینوں ممالک کے امن، ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے اہم سنگِ میل ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ خطے کے استحکام کو متاثر کرنے والے مشترکہ خطرات سے نمٹنے میں معاون ہو گا۔
اسلامی تعاون تنظیم نے بھی سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کو اہم پیشرفت قرار دیا۔
سیکرٹر ی جنرل اوآئی سی حسین ابراہیم طہٰ نے اہم سٹریٹجک اقدام کو سراہتے ہوئے مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔
او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے معاہدے پرتینوں ممالک کی دانشمندانہ قیادت اور کاوشوں کی تعریف ہے۔
یہ معاہدہ بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور اسلامی ممالک کی یکجہتی کا عکاس ہے۔
سلطنتِ بحرین کی وزارتِ خارجہ کا بھی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے۔
دیگر ممالک کی طرح یمن کا بھی سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی بھرپورحمایت کا اعلان کیا ہے۔
صومالیہ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کوخوش آئند قراردیدیا ہے۔
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ کے امورِ مذہبی کے صدر شیخ پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمنٰ بن عبدالعزیز السدیس نے بھی مکہ دفاعی معاہدہ کا خیرمقدم کیا ہے۔


