ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے پاکستان مخالف بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے بیان دیکھا ہے، یہ بیان سی بی ایس نیوز کی خبر کے فوری بعد جاری ہوا تھا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وقت کے فرق کے باعث ہمارا بیان تھوڑا تاخیر سے جاری ہوا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کا کردار مسلسل فعال ہے اور پاکستان تمام ریاستوں کی خودمختاری اور برابری کے اصولوں کا احترام کرتے ہوئے علاقائی امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امن کی ان کوششوں کے سلسلے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے قطر اور آذربائیجان کے رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
طاہر اندرابی کے مطابق سعودی عرب اور آسٹریا کے وزرائے خارجہ نے بھی ایران اور امریکا کے درمیان رابطے آسان بنانے کے لیے پاکستان کے اس تعمیری سفارتی کردار کو سراہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی طیاروں کی پاکستان میں موجودگی سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں اور متعلقہ پروازیں صرف سفارتی عملے اور انتظامی اسٹاف کی نقل و حرکت کے لیے تھیں، جن کا کسی فوجی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے پر پاکستان نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔
ترجمان کے مطابق دفتر خارجہ نے افغان ناظم الامور کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا کیونکہ تحقیقات اور تکنیکی شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ حملہ آور افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس سے تعلق رکھتے تھے۔


