آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی مزید تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن کے مطابق حکومت نے تعلیم اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے لیے 78 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز تیار کر لی ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت تعلیمی شعبے کی ترقی اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مجوزہ بجٹ میں مستحق طلبہ کے لیے تعلیمی وظائف کی مد میں 3 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔
اسی طرح وزیراعظم یوتھ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے 3 ارب 20 کروڑ روپے جبکہ مقبوضہ کشمیر کے طلبہ کے لیے اسکالرشپ پروگرام کی مد میں ایک ارب 55 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت دانش اسکول سسٹم کو مزید وسعت دینے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت دانش اسکولوں کا دائرہ بلوچستان، چترال، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے بعض پسماندہ علاقوں تک بڑھایا جائے گا تاکہ دور دراز علاقوں کے طلبہ کو معیاری تعلیم کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق اگر یہ تجاویز بجٹ کا حصہ بن جاتی ہیں تو ملک میں تعلیم اور فنی تربیت کے شعبوں کو مزید تقویت ملے گی اور طلبہ کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔


