وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپوزیشن لیڈر کے فوج سے متعلق بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دے دیا۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ کل اپوزیشن لیڈر نےکہا کہ پاکستان کی فوج چار ضلعوں کی فوج ہے، اس طرح کے غیرذمہ دارانہ بیان کی اپوزیشن لیڈر کی جانب سے توقع نہیں تھی، اپوزیشن لیڈر نے پاک فوج پر الزامات لگانے کی کوشش کی ہے، ہر ذی شعور انسان جانتا ہےکہ پاکستان کی فوج پورے ملک کی فوج ہے، پاکستان کی فوج کا تشخص قومی ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہماری فوج نےگزشتہ 5 سال میں 3141 شہادتیں دی ہیں، 2021 سے فروری 2026 تک 170 افسران نے شہادتیں دیں، جے سی اوز نے 212، جوانوں نے 2759 شہادتیں دی ہیں، افواج میں آزاد جموں وکشمیر سے سب سے زیادہ 2034 شہادتیں ہیں، بلوچستان سے افواج پاکستان نے 103شہادتیں،گلگت بلتستان سے 161 شہادتیں دی ہیں، خیبرپختونخوا سے کل 534، پنجاب سے 1657 شہادتیں ہوئی ہیں، سندھ سے افواج نے 452 شہادتیں دی ہیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ان اعداد وشمارکے بعدکوئی بتائےکیا افواج پاکستان چار ضلعوں کی ہے، پنجابیوں کا آئی ڈی کارڈ دیکھ کر بلوچستان میں گولی ماری جاتی ہے، پنجابیوں کو گولی مارنے پر بلوچستان سے کوئی آواز نہیں اٹھتی،کیا یہ چار ضلعوں کی فوج ہے یا وطن عزیز کی فوج ہے؟ لیڈر آف اپوزیشن کا عہدہ قومی عہدہ ہے،کسی ضلع کا عہدہ نہیں، اس عہدے پر بیٹھ کر غیر ذمہ دارانہ بیان دینا عہدےکی توہین ہے، یہ وطن اور قوم کی جنگ ہے، کسی ضلع کی جنگ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی نظریات رکھیں لیکن اٹیک نہ کریں، پاک فوج کسی صوبے یا ضلع کی فوج نہیں ہے ، دہشت گردی کی اس جنگ میں ہم روزانہ نقصان اٹھا رہے ہیں، بلوچستان میں دو سو سے زیادہ دہشت گرد مارےگئے، اسلام میں خون خرابے کی کوئی اجازت نہیں ہے، ہمارے فوجیوں کی گردنیں تنوں سے جدا کردی جاتی ہیں، پاک فوج اپنے خون سے اپنے حلف کی تائید کر رہی ہے، ہم سیاستدان گرے ایریاز میں رہ رہے ہوتے ہیں، ہم پارٹیاں بدلتے ہیں لیکن ان شہیدوں نے پارٹیاں نہیں بدلیں، شہدا ہماری ریڈ لائن ہیں، شہید اول و آخر پاکستانی ہوتا ہے اس کا تعلق ضلع سے نہیں ہوتا۔
قومی اسمبلی میں فوج سے اظہاریکجہتی اور شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کی قرارداد بھی متفقہ منظور کرلی گئی، قرارداد وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کی۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپوزیشن لیڈرکے فوج سے متعلق بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیدیا
3 Mins Read
Previous Articleمسلط کی گئی شہادت, تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین
Next Article قومی اسمبلی اجلاس: کئی بل منظور


