کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے چمن پھاٹک کے مقام پر ہونے والے خودکش دھماکے میں معصوم بلوچ عوام ایک بار پھر دہشت گردی کی بربریت کا شکار بنے۔
ریلوے ٹریک پر ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں قریبی رہائشی آبادی شدید متاثر ہوئی جب کہ متعدد گھروں اور املاک کو نقصان پہنچا ہے۔
اطلاعات کے مطابق دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ آس پاس کے گھروں میں موجود مقامی شہری، بالخصوص خواتین اور بچے شدید متاثر ہوئے۔
دھماکے کی شدت سے قریبی پلازہ، پارکنگ میں کھڑی گاڑیاں اور دیگر املاک بھی تباہی کا شکار ہوئیں۔
واقعے کے نتیجے میں 14 افراد شہید جب کہ متعدد زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر سیکورٹی فورسز اور امدادی ٹیموں نے طبی امداد فراہم کرتے ہوئے قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا۔
علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق دہشت گرد عناصر کی جانب سے نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کا مقصد بلوچستان میں خوف و ہراس پھیلانا اور امن کو سبوتاژ کرنا ہے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ سے قبل ذوالحج کے بابرکت ایام میں اس قسم کی کارروائیاں دہشت گردوں کی سفاکیت اور انسان دشمن ذہنیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
واقعے کے بعد غیور بلوچ عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے جبکہ مختلف مکاتب فکر، سماجی حلقوں اور مقامی آبادی نے اس بزدلانہ کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ نہتے مسافروں، مزدوروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا کھلی دہشت گردی اور انسانیت سوز جرم ہے۔
واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا قائم ہے جبکہ شہریوں میں فتنہ الہندوستان کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔


