وزیر اعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کو دوبارہ بسا کر قربانیوں پر پانی پھیر دیا گیا، گزشتہ صوبائی حکومت کے دور میں5 ہزار پولیس آسامیاں خالی تھیں جن کو پر ہی نہیں کیا گیا ۔
پشاور: خیبرپختونخوا میں امن و امان، سکیورٹی صورتحال اور استحکام سے متعلق امور کا جائزہ لینے کے لیے گورنر ہاؤس پشاور میں ہونے والا صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس 3 گھنٹے سے زائد جاری رہنے کے بعد ختم ہوگیا ۔
ایپکس کمیٹی کا اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب وفاقی حکومت صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد نئے سیاسی، سکیورٹی اور انتظامی ڈھانچے پر عمل درآمد کر رہی ہے ۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کا انتہائی خوبصورت صوبہ جہاں پر بڑے غیور اور عظیم لوگ رہتے ہیں، یہاں انتہائی مجبوری کے باعث ایمرجنسی کا نفاذ کرنا پڑا ۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پشاور میں سکول کی چھت گرنے کا جو المناک حادثہ ہوا جس میں بچے اور اساتذہ شہید ہوئے اللہ انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، میں نے گورنر پختونخوا کو ہدایت کی تھی کہ اس سانحے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، گورنر اس پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں ۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ 6 برس کے دوران امن و امان کے حوالے سے جو حقائق سامنے آئے ہیں آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ یہاں پر مکمل امن و امان قائم تھا اور یہ امن ان قربانیوں کا نتیجہ تھا جو مسلح افواج، پولیس اور عوام نے دیں، یہاں پر 2018 میں امن قائم ہوا تھا ۔
انہوں نے کہا کہ یہاں پر دہشتگردوں کو بلایا گیا اور قربانیوں پر پانی پھیر دیا گیا۔قربانیوں کا احترام نہ کرنا اس سے بڑھ کر ملک دشمنی کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔ تعلیم ، صحت اور روزگار کے عوام کے مسائل کو ایک طرف کر دیا گیا، پچھلی صوبائی حکومت کے دور میں5 ہزار پولیس آسامیاں خالی تھیں جس کو پر نہیں کیا گیا ۔


