برطانوی حکومت کی معاونت سے پاکستان کے 10 کاروباری ادارے ماحول دوست منصوبوں کو وسعت دینے کے لیے آئندہ 12 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 5 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔
ان منصوبوں کا تعلق صاف توانائی، ٹرانسپورٹ، تعمیرات، زراعت اور کچرے کو کارآمد وسائل میں تبدیل کرنے جیسے شعبوں سے ہے۔
سرمایہ کاری کے حصول کے لیے ان کاروباری اداروں کو برطانوی حکومت کی مالی معاونت سے تکنیکی اور مالی مشاورت فراہم کی گئی، جس کے نتیجے میں انہوں نے اپنے منصوبوں کو سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار کیا۔
اس سلسلے میں کراچی میں منعقدہ اجلاس کے دوران کاروباری نمائندوں نے اپنے منصوبے سرمایہ کاروں، بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کے سامنے پیش کیے۔
برطانوی حکومت کی جانب سے تعاون یافتہ کلائمیٹ فنانس ایکسیلیریٹر پاکستان (سی ایف اے پاکستان) پروگرام، جس پر ڈی اے آئی عمل درآمد کررہا ہے، نے کاروباری اداروں کو تکنیکی، مالی اور صنفی مساوات و سماجی شمولیت کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی ہے۔
پروگرام کے تحت 2022 سے 2024 کے دوران پاکستان میں 22 منصوبوں کی معاونت کی گئی اور ماحولیاتی منصوبوں کے لیے 4 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری متحرک کرنے میں مدد ملی۔
27 اور 28 اکتوبر کو منعقد ہونے والے 2 روزہ کلائمیٹ فنانس ایکسیلیریٹر پاکستان انویسٹر روڈ شو میں ان 10 کاروباری اداروں کو ممکنہ سرمایہ کاروں سے براہ راست رابطے کا موقع دیا گیا۔
اس میں زراعت و زمین کے استعمال، کچرے کی ری سائیکلنگ، صاف توانائی، تعمیرات اور برقی ٹرانسپورٹ کے شعبوں سے وابستہ ان کاروباروں کے پاس آئندہ 3 برس کے لیے مجموعی طور پر 12 کروڑ ڈالر مالیت کے سرمایہ کاری منصوبے موجود ہیں۔
اس موقع پر حکومتی نمائندوں، سرمایہ کاروں اور صنعتی شعبے سے وابستہ شخصیات نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ پالیسی، ضابطہ جاتی اور مارکیٹ سے متعلق رکاوٹیں دور کرکے پاکستان میں ماحولیاتی منصوبوں کے لیے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کیسے بڑھائی جاسکتی ہے۔


