ڈسٹرکٹ ویسٹ کی پولیس نے ڈھائی سالہ آذان کے اغوا کا کیس حل کرتے ہوئے مرکزی ملزم سمیت تین ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
بچے کے والد کے دوست نے لین دین کیلیے واردات کی اور ساتھ ملکر تلاش کرنے کا ڈرامہ کرتا رہا۔
ایس ایس پی ویسٹ طارق مستوئی نے بتایا کہ منگھوپیر کے قریب قائم نجی سوسائٹی سے اغوا ہونے والے ڈھائی سالہ بچے آذان کے کیس میں بچے کے والد کا دوست احتشام مرکزی کردار، منصوبہ ساز اور اغوا میں براہ راست ملوث نکلا۔
انہوں نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس نے ٹیکنیکل معلومات اور مسلسل تحقیقات کی بنیاد پر کراچی اور گھارو کے قریب کارروائیاں کرتے ہوئے اغوا اور تاوان کے مقدمے میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان کی شناخت محمد احتشام ولد عمران خان (مرکزی ملزم / مدعی مقدمہ کا دوست) عبدالوہاب ولد محمد اشفاق (مرکزی ملزم احتشام کا سالہ) افتخار احمد ولد عبدالکریم (گھارو میں موجود سہولت کار) کے ناموں سے ہوئی۔
ایس ایس پی ویسٹ نے بتایا کہ ملزمان نے 18 جولائی 2026 کو منگھوپیر کی ایک نجی رہائشی سوسائٹی سے آذان علی خان کو اغواء کیا۔
اغوا کے بعد والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا اور پھر بیرونِ ملک کے ایک واٹس ایپ نمبر سے مدعی مقدمہ سے 50 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ بھی کیا گیا۔


