نئی دہلی: بھارت میں اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک پر تشویش بدستور برقرار ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق بھارت میں مذہبی اقلیتوں کو امتیازی قوانین، نفرت انگیز بیانات اور تشدد کے واقعات کا سامنا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ورلڈ رپورٹ 2025 میں کہا کہ بھارتی حکام اقلیتی برادریوں کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حالیہ واقعے میں بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع کوشامبی میں تین مسلم خواتین کو گائے کا گوشت پکانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق خواتین کی شناخت شمع پروین، شائستہ اور فاطمہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ پولیس نے ایک اطلاع پر گھر پر چھاپہ مارا، تاہم ضبط کیے گئے گوشت کے لیبارٹری ٹیسٹ کے نتائج ابھی حتمی طور پر سامنے نہیں آئے۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اتر پردیش کے علاقے پنارا گوپال پور میں پیش آیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ کارروائی مخبر کی اطلاع پر کی گئی، جبکہ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بھارت میں گائے کے گوشت کے الزامات اکثر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں “گائے کے تحفظ” کے نام پر اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بعض واقعات میں پولیس نے حملہ آوروں کے خلاف فوری کارروائی کے بجائے متاثرین یا ان کے اہل خانہ کے خلاف ہی گائے ذبح کرنے سے متعلق قوانین کے تحت مقدمات درج کیے۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی، یعنی USCIRF، نے بھی بھارت میں مذہبی اقلیتوں کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ کمیشن کے مطابق بھارت میں مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات اور امتیازی رویے میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
سیاسی اور انسانی حقوق کے مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات بھارت میں اقلیتوں کے تحفظ، مذہبی آزادی اور قانون کے یکساں نفاذ پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ ان کے مطابق گائے کے گوشت کے الزامات کو محض قانونی معاملہ نہیں بلکہ اقلیتی برادریوں کے خلاف سماجی دباؤ کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔


